سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں بڑھتے ہوئے عائلی اور گھریلو تنازعات، بالخصوص خواتین کے حقوق اور خلع کے طریقہ کار سے متعلق ایک انتہائی اہم، تاریخی اور جامع تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی صورت میں بیوی کی واضح، مکمل باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگری جاری نہیں کی جا سکتی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 3 رکنی معزز بنچ نے اس کیس کی سماعت کے بعد اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ 12 صفحات پر مشتمل یہ اہم ترین فیصلہ بنچ کے رکن جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں طلاق اور خلع کی شرح میں تشویشناک اضافہ: کونسا شہر حیران کن اعدادوشمار میں سب سے آگے؟
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں خلع اور تنسیخِ نکاح کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اگر ایک خاتون (بیوی) نے شوہر کے ظلم و ستم کی بنیاد پر عدالت میں تنسیخِ نکاح کا کیس دائر کیا ہو، تو فیملی کورٹ کی جانب سے اس کیس کو یکطرفہ طور پر خلع میں تبدیل کر دینا اس خاتون کے مالی حقوق (جیسے حق مہر کی واپسی یا نان و نفقہ) کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
لہٰذا یہ فیملی کورٹ کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ خاتون کو یہ واضح اختیار اور موقع فراہم کرے کہ آیا وہ اپنے شوہر کے خلاف ظلم کا دعویٰ جاری رکھ کر نکاح ختم کروانا چاہتی ہے یا اپنے مالی حقوق سے دستبردار ہو کر خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ’گھریلو تشدد‘ اور ’ظلم‘ کی تعریف کا دائرہ کار انتہائی وسیع کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ گھریلو تشدد کا مطلب صرف جسمانی مار پیٹ یا تشدد نہیں ہے، بلکہ خاتون کو مسلسل ذہنی اذیت دینا، اس کی تذلیل کرنا، نفسیاتی دباؤ میں رکھنا اور بنیادی ضروریات سے محروم کرنا بھی گھریلو تشدد اور ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
فیصلے میں مزید تشریح کی گئی کہ ’ذہنی ظلم‘ میں خاتون کو جذباتی طور پر ٹھیس پہنچانا، مسلسل نظر انداز کرنا اور اسے شدید ترین ذہنی و نفسیاتی تکلیف میں مبتلا رکھنا بھی شامل ہے۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر کی فیملی کورٹس (عائلی عدالتوں) کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ گھریلو اور سول نوعیت کے ان مقدمات میں فوجداری معیارِ ثبوت یعنی شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا) لاگو کرنے سے مکمل گریز کریں، اور گھریلو جھگڑوں کا فیصلہ کرتے وقت خاندان کے حقائق، فریقین کے رویے اور مخصوص حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر اِعلائے حق کریں۔
زیرِ نظر کیس کے مابین حقائق کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بتایا کہ فریقین کی شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی تھی، جبکہ شادی کے محض چند دن بعد یعنی 8 اکتوبر 2016 کو ہی علیحدگی کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں:خلع کیس : سابق ایم پی اے دعا بھٹو نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ سے راہیں جدا کر لیں
عدالت نے اس نقطے پر اہم آبزرویشن دیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ قلیل مدت کی شادی میں ظلم نہیں ہو سکتا، شادی کی قلیل مدت کے دوران بھی خاتون پر ظلم ہو سکتا ہے اور ہر کیس کا فیصلہ اس کے اپنے مخصوص حقائق پر منحصر ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے پایا کہ اس مخصوص کیس میں بیوی نچلی عدالتوں میں شوہر کا ظلم قانون کے مطابق ثابت کرنے میں ناکام رہی تھی، اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے جاتے ہیں، تاہم چونکہ شادی ابتدا میں ہی ختم ہو چکی تھی اور بیوی گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل علیحدگی کے مؤقف پر سختی سے قائم ہے، اس لیے میاں بیوی کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں۔
سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے خلع کے فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو صرف خلع کے درست طریقہ کار اور خاتون کے مالی حقوق کا نئے سرے سے تعین کرنے کے لیے دوبارہ فیملی کورٹ کو ریمانڈ (واپس ارسال) کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق فیملی کورٹ اب اس خاتون کا حتمی اور تفصیلی بیان دوبارہ ریکارڈ کرے گی اور اس کی آزادانہ مرضی معلوم کرے گی۔
اگر خاتون عدالت میں خلع کا انتخاب کرتی ہے تو تمام قانونی شرائط اور مہر کی واپسی کے قوانین کے مطابق فیصلہ ہوگا، اور اگر وہ اپنے شوہر کے خلاف ظلم کے دعوے پر ہی قائم رہتی ہے تو کیس کا فیصلہ اسی میرٹ پر کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو پابند کیا ہے کہ اس حساس کیس کو ہر صورت 30 دن کے اندر نمٹایا جائے۔
فیملی کورٹس کا طریقہ کار اور خواتین کے مالی حقوق کا تحفظ
پاکستان کے عائلی قوانین کے تحت جب کوئی خاتون عدالت سے طلاق یا علیحدگی کے لیے رجوع کرتی ہے، تو عام طور پر نچلی عدالتیں (فیملی کورٹس) مقدمات کو جلد نمٹانے یا طویل ٹرائل سے بچنے کے لیے تنسیخِ نکاح کے دعوے کو ’خلع‘ میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
قانونی طور پر خلع کی صورت میں خاتون کو اپنے حق مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے یا شادی کے وقت ملنے والی مراعات شوہر کو واپس کرنی پڑتی ہیں، جبکہ ’ظلم یا نان و نفقہ نہ دینے‘ کی بنیاد پر اگر عدالت نکاح ختم کرے (تنسیخِ نکاح) تو خاتون اپنا پورا حق مہر اور دیگر مالی حقوق حاصل کرنے کی حقدار ہوتی ہے۔
ماضی میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے جہاں خواتین شوہر کے شدید ظلم و ستم کا شکار تھیں، لیکن فیملی کورٹس نے انہیں خلع کے ذریعے علیحدگی تو دے دی، مگر وہ اپنے حق مہر سے محروم ہو گئیں، جو کہ ان کے ساتھ ایک اور ناانصافی تھی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اس بنچ کا فیصلہ فیملی کورٹس کے اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے اور خواتین کو اپنی مرضی کا قانونی راستہ چننے کا حق دینے کی جانب ایک بڑا بریک تھرو ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے معاشرتی اور قانونی اثرات
سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ خلع کوئی یکطرفہ یا زبردستی تھوپا جانے والا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ جب تک بیوی عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر پورے ہوش و ہواس میں خلع کی شرائط پر راضی نہ ہو، عدالت خود سے اس پر خلع مسلط نہیں کر سکتی۔ یہ خواتین کے قانونی حقوق کا ایک بڑا تحفظ ہے۔
ذہنی ظلم کو قانونی تسلیم کرنا
پاکستانی معاشرے میں عام طور پر صرف اسی وقت گھریلو تشدد کو سنجیدہ لیا جاتا ہے جب جسم پر زخم کے نشانات موجود ہوں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ’ذہنی اذیت، تذلیل، نظر انداز کرنے اور جذباتی تکلیف‘ کو گھریلو تشدد کی باقاعدہ تعریف میں شامل کرنا ایک انقلابی قدم ہے۔ اس سے خواتین کو ذہنی اور نفسیاتی ٹارچر کے خلاف بھی قانونی ڈھال میسر آئے گی۔

