مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور واشنگٹن و تہران کے مابین امن کی بحالی کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں میں ایک اور انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے اہم ترین مسلم ممالک کے رہنماؤں سے اعلیٰ سطح کے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں، جس کے بعد امریکا، ایران اور علاقائی ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں انتہائی مثبت پیش رفت کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک خصوصی اور اہم بیان میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن عمل پر مشاورت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی اعلیٰ قیادت سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے مصر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کے سربراہانِ مملکت سے بھی اہم ٹیلیفونک رابطے قائم کیے ہیں۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان اہم ترین سفارتی رابطوں کے بعد خطے میں پائیدار امن اور ایک بڑے بریک تھرو کی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر خطے میں امن، استحکام اور تمام تنازعات کے سفارتی و پرامن حل کی حمایت کے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے اس عظیم امن عمل میں ملکی قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ نے ان بین الاقوامی امن کوششوں کو کامیاب بنانے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نائب صدر اور امریکی وزیر خارجہ کی انتھک سفارتی کوششوں کی کھل کر تعریف کی، جبکہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایرانی قیادت کے مثبت اور تعمیری کردار کو بھی سراہا، جسے انہوں نے موجودہ امن عمل کی کامیابی کے لیے سب سے اہم ترین عنصر قرار دیا۔
نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کے باعث ہی ان مشکل مذاکرات میں یہ تاریخی پیش رفت ممکن ہوئی ہے، کیونکہ تصادم اور جنگ کے بجائے صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد اور بہترین راستہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی قد
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں ایران اور امریکا کے مابین طویل عرصے سے جاری فوجی و اقتصادی تصادم نے پوری دنیا کو ایک بڑی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، جس کی وجہ سے نہ صرف عالمی معیشت دباؤ کا شکار تھی بلکہ خطے کے تمام مسلم ممالک کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق تھے۔
ایسے حالات میں پاکستان نے جو کہ روایتی طور پر چین، امریکا اور خلیجی ممالک کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرتا آیا ہے، اپنی غیر جانبدارانہ اور اثر و رسوخ پر مبنی ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مضبوط عسکری سفارت کاری کے باعث پاکستان واشنگٹن اور تہران کے مابین بالواسطہ پیغامات کی ترسیل اور مسلم امہ کو ایک پیج پر لانے میں کامیاب رہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یہ بیان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ کے فیصلوں میں محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ناگزیر اور مرکزی امن کار بن کر ابھرا ہے، جس کی مشاورت کے بغیر امریکا بھی خطے میں کوئی معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
نائب وزیراعظم کے بیان کے سفارتی پہلو
نائب وزیراعظم کا وائٹ ہاؤس اور مسلم ممالک کے درمیان ہونے والے رابطوں کی تفصیلات شیئر کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اس عالمی امن اسکرپٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ کا پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لینا ملکی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
سول اور عسکری قیادت کا مثالی تال میل
اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ملکی مفاد اور عالمی امن کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کی تعریف
پاکستان نے جہاں امریکی انتظامیہ کی تعریف کی، وہیں ایران کے ‘تعمیری کردار’ کو بھی اہم قرار دیا۔ یہ متوازن سفارتی زبان پاکستان کے تہران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی اور ایران کا پاکستان پر اعتماد بحال رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
کثیر الجہتی سفارت کاری کی فتح
بیان میں اقوامِ متحدہ اور دیگر علاقائی شراکت داروں (جیسے قطر اور ترکیہ) کا شکریہ ادا کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کامیابی کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے معاہدے کے پائیدار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔