علاج نہیں انتظارکریں ! پشاور کے سرکاری طبی ادارے کے ڈاکٹربے رحم ہوگئے جہاں گردے کے مریض بچے کو 5 سال بعد کی تاریخ دیدی۔
پختونخوا میں صحت کے شعبے میں اصلاحات اور صحت کا انصاف کے دعووں کے باوجود صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک کمسن مریض کو گردے کے علاج کیلئے پانچ سال بعد کی تاریخ دی گئی ہے جس نے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو درپیش مشکلات اور طویل انتظار کی فہرستوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق گردوں کے عارضے میں مبتلا ایک بچے کے والدین کو متعلقہ ہسپتال کی جانب سے علاج یا ضروری طبی عمل کیلئے پانچ سال بعد کی تاریخ دی گئی ہے جس کے بعد اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بیماری اور انتظار ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، جبکہ اتنی طویل مدت کسی بھی مریض اور اس کے خاندان کیلئے نا قابل برداشت ہے۔

واضح رہے کہ گردوں کے امراض میں بروقت تشخیص اور علاج انتہائی اہم ہوتا ہے جبکہ کئی سال بعد کی تاریخ مریض کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے تا ہم یہ صورتحال صوبے میں سپیشلائز ڈطبی مراکز ، افرادی قوت اور سہولیات کی کمی کی عکاسی کرتی ہے اگر ایک بچے کو علاج کیلئے پانچ سال انتظار کرنا پڑے تو یہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام صحت کی کارکردگی پر سوال ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اندرونی احتساب کمیٹی کا بڑا اقدام، خیبرپختونخوا میں کرپشن کیخلاف شکایات کیلئے 4 علاقائی کمیٹیاں قائم
اس واقعے کے بعد شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک کمسن بچے کو گردے کے علاج کے لیے پانچ سال انتظار کرنا پڑے تو دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی صورتحال کیا ہوگی؟ کیا حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوکر عوام کو حقیقی سطح پر بنیادی ضرورت فراہم کرے گی یا دیگر معاملات کی طرح صحت کا نظام بھی سیاست کی بھینٹ چڑھ جائے گا ۔

