مسلم ممالک کے لیے برادرانہ ہاتھ، دشمنوں کو سخت پیغام، ایرانی صدر نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں

مسلم ممالک کے لیے برادرانہ ہاتھ، دشمنوں کو سخت پیغام، ایرانی صدر نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیےایک بڑا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ‘جنگ کے خاتمے کے لیےایک باوقار فریم ورک’ تک پہنچنے کے لیےمکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور امن کی راہ میں اپنے اخلاص اور عزم کو ثابت کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی جنگ بندی اور امن کے لیےاپنی سنجیدگی اور آمادگی کا مظاہرہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات سے متعلق بڑی خبر، مزید پیش رفت سامنے آگئی

یہ اہم ترین سفارتی پیغام ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ہونے والے ایک حالیہ اور انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطے کے دوران سامنے آیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال، غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت اور پائیدار امن کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اسلامی ممالک کو برادرانہ ہاتھ بڑھانے کی پیشکش

ٹیلیفونک گفتگو کے فوراً بعد جاری ہونے والے ایک اور خصوصی پیغام میں ایرانی صدر نے مسلم امہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایران تمام اسلامی ممالک کی طرف دوستی اور برادری کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ ہم خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر امن قائم کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کمزور ہیں۔ ایران اپنی قومی خود مختاری، سرحدوں اور سالمیت کے تحفظ میں ذرا برابر بھی ہچکچاہٹ یا نرمی نہیں برتے گا‘۔

قطر کا تعمیری کردار جاری رکھنے کا عزم

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے ایک معتبر ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ایرانی صدر کے مؤقف کو سراہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قطر خطے میں امن و امان کی بحالی اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیےایران اور دیگر فریقین کے درمیان اپنی مخلصانہ ثالثی کی کوششیں اور تعمیری کردار مستقبل میں بھی بھرپور طریقے سے جاری رکھے گا۔

یہ سفارتی رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور بعد ازاں لبنان پر حملوں نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ایران اسرائیل کشیدگی

ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست میزائل حملوں کے تبادلے نے خطے کو ایک بڑی علاقائی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

ایرانی قیادت کا بدلا ہوا انداز

صدر مسعود پزشکیان نے جب سے ایران کا صدراتی عہدہ سنبھالا ہے، وہ ایک طرف مغربی ممالک اور عرب دنیا کے ساتھ ‘سفارتی تعلقات کی بحالی اور مذاکرات’ کی وکالت کر رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ ‘محورِ مزاحمت’ کی پشت پناہی اور ایرانی دفاع کو مضبوط کرنے کے عزم پر بھی قائم ہیں۔

قطر کا کردار

قطر، امریکا اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر کئی ماہ سے غزہ میں جنگ بندی کے لیےمذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ قطر کے اچھے سفارتی تعلقات اسے اس پیچیدہ صورتحال میں ایک کلیدی ثالث بناتے ہیں۔

‘باوقار فریم ورک’ سے کیا مراد ہے؟

ایران جب ‘باوقار فریم ورک’ کی بات کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسی جنگ بندی یا معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے اپنے مفادات، یا غزہ و لبنان میں اس کے اتحادیوں (حماس اور حزب اللہ) کی مکمل شکست پر مبنی ہو۔ ایران ایک ایسا معقول حل چاہتا ہے جس میں اس کا سفارتی اور عسکری بھرم قائم رہے۔

گیند اب ‘دوسرے فریق’ کے کورٹ میں

صدر پزشکیان کا یہ کہنا کہ ‘وقت آگیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنی آمادگی کا مظاہرہ کرے’، براہِ راست امریکا اور اسرائیل کی طرف اشارہ ہے۔ ایران خود کو ایک امن پسند ملک کے طور پر پیش کر کے عالمی برادری پر یہ دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ جنگ کی طوالت کی ذمہ داری ایران پر نہیں بلکہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی پر ہے۔

مستقبل کی حکمتِ عملی

ایرانی صدر کا ایک طرف ‘برادرانہ ہاتھ’ بڑھانا اور دوسری طرف ‘قومی خود مختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے’ کی وارننگ دینا، ایران کی کلاسک ‘ڈپلومیسی پلس ڈیٹرنس’ کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران عرب ممالک کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ ان کے لیےخطرہ نہیں ہے، بلکہ خطے کا اصل مسئلہ اسرائیل ہے۔

Related Articles