’دیرینہ مسائل ایک رات میں حل نہیں ہوتے‘چین کی امریکا اور ایران سے درمیانہ راستہ نکالنے کی اپیل

’دیرینہ مسائل ایک رات میں حل نہیں ہوتے‘چین کی امریکا اور ایران سے درمیانہ راستہ نکالنے کی اپیل

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے مشرقِ وسطیٰ اور ایران تنازع کی انتہائی سنگین ہوتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام شامل فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھیں۔

نیویارک میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ فریقین درمیانہ راستہ اختیار کرتے ہوئے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں، کیونکہ دہائیوں پرانے اور دیرینہ مسائل ایک رات میں حل نہیں کیے جا سکتے‘۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کو تیزی سے جنگ کے مستقل حل کی جانب بڑھنا ہوگا؛ چین

وانگ یی نے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’مذاکرات کے عمل میں آگے بڑھنے والا ہر چھوٹا قدم بھی امن کے لیے مزید امیدیں لاتا ہے۔ یہ تنازع جتنی جلدی ختم ہوگا، معصوم شہری جانوں کا نقصان بھی اتنا ہی کم ہوگا‘۔

چین کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکااور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے بعد خطہ ایک بڑی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

امریکاکے فضائی حملے اور ایران کا جوابی وار

2 روز قبل امریکا نے ایران کے اندر اور اس کے مضافات میں بڑی فضائی کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ واشنگٹن کے مطابق امریکی فضائیہ نے ایران کی اہم میزائل تنصیبات اور خلیج میں موجود ایرانی جنگی کشتیوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

امریکاکے اس اقدام پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے تہران نے واضح کیا ہے کہ ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی مسلح افواج نے باقاعدہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا ردِعمل اس بار پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور ہولناک ہوگا۔

اسی کشیدگی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ انہوں نے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا ہے جبکہ امریکاکے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35′ (F-35) پر بھی کامیابی سے فائرنگ کی گئی ہے۔

امریکااور ایران کے درمیان یہ حالیہ عسکری ٹکراؤ اچانک نہیں ہوا، بلکہ اس کا ایک گہرا اور پیچیدہ پس منظر ہے

پروکسی وار سے براہِ راست تصادم

گزشتہ طویل عرصے سے امریکااور ایران خطے میں ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ جنگوں میں مصروف تھے، لیکن امریکی فضائی حملوں اور ایران کے جوابی دعوؤں نے اس سرد جنگ کو اب ایک گرم اور براہِ راست عسکری تصادم میں بدل دیا ہے۔

چین کا سفارتی کردار

چین روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں خود کو ایک غیر جانبدار اور امن پسند قوت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ اس سے قبل چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحال کروا کے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی تھی، اور اب وہ امریکاایران تنازع میں بھی ثالثی یا کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کی درمیانی راستےکی حکمتِ عملی

چینی وزیر خارجہ کا درمیانہ راستہاختیار کرنے کا مشورہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین خطے میں کسی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ بیجنگ کی معیشت اور توانائی (تیل) کا ایک بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے وابستہ ہے۔ چین امریکاکو یہ پیغام دے رہا ہے کہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ایران کی ریڈ لائناور ڈیٹرنس

امریکی ایف-35 طیارے پر فائرنگ اور ڈرون گرانے کا ایرانی دعویٰ تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتیں اور عزم دفاع انتہائی مضبوط ہیں۔ ایران دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے سامنے بے بس نہیں ہوگا بلکہ اس کی ڈیٹرنس فعال ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

خلیج میں ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے اور جوابی کارروائیوں سے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہولناک اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

Related Articles