وفاقی بجٹ 27-2026 میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ملنے کا امکان

وفاقی بجٹ 27-2026 میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ملنے کا امکان

آئندہ وفاقی بجٹ 27-2026 میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف کا امکان ظاہر کر دیا گیا ،  ممکنہ ریلیف کی خبریں سرمایہ کاروں، بلڈرز اور پراپرٹی کاروبار سے وابستہ حلقوں میں اطمینان کی لہر پیدا کی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع کا بتانا ہے کہ  آئندہ بجٹ میں فائلرز کیلئے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی کاامکان ہے ، پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی ہوسکتی ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پراپرٹی کی خریداری کیلئے شق 236K کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس 1.5 فیصد سے کم ہو گا، پراپرٹی کی خریداری کیلئے شق 236K کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس 0.25 فیصد ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جائیداد رکھنے اور خرید و فروخت کرنیوالوں کیلئے اہم خبر آگئی

پراپرٹی کی فروخت کیلئے شق 236C کےتحت ود ہولڈنگ ٹیکس 4.5 فیصد کیا جائے گا، پراپرٹی کی فروخت کیلئے شق 236C کےتحت ود ہولڈنگ ٹیکس کم ہوکر 1.5 فیصد ہوسکتا ہے۔

ذرائع ایف بی آر کے مطابق پراپرٹی سیکٹر پر ٹیکسز میں ردوبدل کیلئے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا ہے، بجٹ میں نان فائلر کیلئے پراپرٹی کی خریدو فروخت پر کوئی ریلیف نہیں ملے گا، نان فائلرز کیلئے پراپرٹی کی خریدوفروخت پر تقریبا 10.5 فیصد کے ٹیکس عائد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نان فائلرز ہوشیار ! ایف بی آر سے بڑی خبر آگئی

پراپرٹی مارکیٹ کا بحران اور ٹیکسوں کا بوجھ

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو شدید مندی کا سامنا رہا ہے ، ماضی کے بجٹس میں جائیداد کی خرید و فروخت پر فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس اور گین ٹیکس کی شرحوں میں بھاری اضافہ کیا گیا تھا، جس کا مقصد دستاویزی معیشت کو فروغ دینا اور ٹیکس ریونیو بڑھانا تھا۔

تاہم اس سخت ٹیکسیشن کا الٹا اثر ہوا اور ملک بھر کی بڑی ہاؤسنگ اسکیموں، کمرشل منصوبوں اور زمینوں کی خرید و فروخت میں 70 سے 80 فیصد تک کمی واقع ہو گئی۔

گزشتہ سال کی نسبت رواں مالی سال جولائی سے مارچ ودہولڈنگ ٹیکس 29 فیصد ملا، بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کی نسبت گین ٹیکس وصولی میں بھی کمی ہوئی۔

سرمایہ کاروں نے پراپرٹی مارکیٹ سے پیسہ نکال کر یا تو نقد رقم کی شکل میں رکھ لیا یا پھر بیرونی ممالک کا رخ کر لیا، جس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو رجسٹریشن فیس اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن یکسر گر گئی۔

تعمیراتی شعبہ بند ہونے سے سیمنٹ، سریا، اینٹیں اور سینیٹری سمیت 40 سے زیادہ دیگر منسلک صنعتیں بھی شدید بحران کا شکار ہو گئیں اور لاکھوں دیہاڑی دار مزدور روزگار سے محروم ہو گئے۔ اسی سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اب اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف کا اعتماد اور فائلر بننے کی ترغیب

حکومت کے اس مجوزہ اقدام کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو اس کے معیشت پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
کاروباری حجم میں اضافہ اور زیادہ ریونیو

حکومت کا یہ فلسفہ درست معلوم ہوتا ہے کہ ہائی ٹیکس ریٹس (ٹیکس کی اونچی شرح) کے بجائے لو ٹیکس ریٹس (ٹیکس کی کم شرح) سے زیادہ بزنس جنریٹ ہوتا ہے۔ جب ٹیکس 1.5 فیصد سے کم ہو کر 0.25 فیصد پر آئے گا، تو جو لوگ ٹیکس کے خوف سے اپنی جائیدادوں کے ٹرانسفر روک کر بیٹھے تھے، وہ فوری طور پر قانونی دستاویزی مراحل پورے کریں گے، جس سے براہِ راست سرکاری خزانے میں پیسہ آئے گا۔

آئی ایم ایف کو قائل کرنے کا چیلنج

آئی ایم ایف عام طور پر کسی بھی شعبے میں ٹیکس کم کرنے کے خلاف ہوتا ہے، لیکن حکومت نے اسے یہ باور کرایا ہے کہ ٹیکس کی شرح کم کرنے سے ٹیکس چوری رکے گی اور قانونی ٹرانزیکشنز کی تعداد بڑھنے سے ہدف آسانی سے پورا ہو جائے گا۔ اگر آئی ایم ایف اس پر راضی رہتا ہے تو یہ حکومت کی بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔

فائلرز اور نان فائلرز میں واضح خلیج

فائلر کے لیے 0.25 فیصد اور نان فائلر کے لیے 10.5 فیصد ٹیکس کا ہونا ایک بہت بڑا فرق ہے۔ یہ تاریخی فرق نان فائلرز کے لیے پراپرٹی کا کاروبار کرنا ناممکن بنا دے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جائیداد کے کاروبار سے جڑے لاکھوں غیر رجسٹرڈ لوگ خود کو فائلر بنانے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے ملک میں دستاویزی معیشت کا دائرہ وسیع ہوگا۔

واضح رہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے 5 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

editor

Related Articles