بلوچستان میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور خاندانوں کی جانب سے اپنے اُن رشتہ داروں سے لاتعلقی کے اعلانات سامنے آئے ہیں جن پر مبینہ طور پر مسلح تنظیموں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
لسبیلہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک شہری نے اپنی بیٹی سے متعلق مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے کسی بھی غیر قانونی یا مسلح سرگرمی میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اسی طرح دیگر علاقوں سے آنے والے افراد نے بھی اپنے رشتہ داروں سے لاتعلقی کے بیانات دیے۔
پنجگور کے ایک شہری نے اپنے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کا کوئی فرد کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا مسلح گروہ سے وابستہ پایا گیا تو اس سے مکمل طور پر قطع تعلق کیا جائے گا۔ گوادر کے ایک رہائشی نے بھی اپنے بھائی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو خاندان اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔
تربت کے ایک شہری نے بتایا کہ ان کا بھائی کچھ عرصہ قبل روزگار کے سلسلے میں گھر سے نکلا تھا بعد ازاں اس کے بارے میں غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کا کسی مسلح تنظیم سے تعلق ثابت ہوتا ہے تو خاندان اس کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ اسی طرح تربت سے ہی ایک اور شہری نے اپنے بیٹے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کا خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔
کوئٹہ کے ایک شہری نے بھی اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اگر وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
ان بیانات کے بعد مختلف حلقوں میں یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ بلوچستان میں مقامی سطح پر خاندانوں کی جانب سے اس نوعیت کے اعلانات کس حد تک بڑھ رہے ہیں اور ان کے سماجی و قبائلی اثرات کیا ہوں گے۔
ایسے اعلانات بعض اوقات ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور عوامی سطح پر شدت پسندی سے دوری کے اظہار کے طور پر بھی سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی آبادی کی بڑی تعداد امن و استحکام کی حامی ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے خود کو الگ رکھنا چاہتی ہے۔
ادھر حکومتی اور سکیورٹی حلقوں کی جانب سے بھی بارہا یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ بلوچستان میں ترقی اور امن کے لیے مقامی آبادی کا کردار انتہائی اہم ہے، جبکہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر خطے کے امن و ترقی کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ امن، قانون کی بالادستی اور ریاستی رٹ کے حق میں کھڑا ہے، تاہم صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات اور مکالمے کی ضرورت ہے۔