کنگ فو کے شوق نے شخص کی ہتھیلی کو 3 انچ موٹا بنا دیا

کنگ فو کے شوق نے شخص کی ہتھیلی کو 3 انچ موٹا بنا دیا

چین میں ایک کنگ فو ماہر نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک سخت تربیت جاری رکھ کر اپنی ہتھیلی کو غیرمعمولی طور پر مضبوط اور موٹا بنا لیا، جس نے سوشل میڈیا صارفین اور مارشل آرٹس کے شوقین افراد کو حیران کر دیا۔

53 سالہ ژینگ لونگشیانگ بچپن سے ہی کنگ فو کے دلدادہ تھے، تاہم ان کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب 1998 میں ان کی ملاقات معروف کنگ فو ماسٹر یانگ شِنچوان سے ہوئی۔ اپنے استاد کے طاقتور اور غیرمعمولی ہاتھ دیکھ کر ژینگ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی شاولن کنگ فو کی مشہور تکنیک ’’آئرن سینڈ پام‘‘ کی مشق کے لیے وقف کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :کوّوں سے محتاط رہیں،کوّوں کی دلچسپ صلاحیت سامنے آگئی

ژینگ نے پہلے سات سال تک اس فن کی بنیادی تربیت حاصل کی، جبکہ بعد ازاں آٹھ سال تک اپنے استاد کے باقاعدہ شاگرد رہے۔ مسلسل محنت، صبر اور سخت تربیت کے بعد وہ خود بھی اس قدیم فن کے ماہر بن گئے۔

آئرن سینڈ پام شاولن کنگ فو کی ایک روایتی تکنیک ہے جس میں ہاتھوں کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل جسمانی مشقیں اور مختلف سخت سطحوں پر ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ اس تربیت کا مقصد ہاتھوں کی برداشت، طاقت اور ہڈیوں کی مضبوطی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سگریٹ اسمگلنگ کا عجیب طریقہ، کسٹمز حکام نے دھر لیا

ژینگ کے مطابق وہ روزانہ ریت سے بھرے تھیلوں پر ہزاروں ضربیں لگاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ تقریباً 6 ہزار مرتبہ ہاتھ مارنے کی مشق کرنا پڑتی تھی، جو نہ صرف جسمانی طور پر تھکا دینے والی بلکہ ذہنی طور پر بھی انتہائی مشکل تھی۔

انہوں نے بتایا کہ تربیت کے دوران ان کے ہاتھ بے شمار مرتبہ زخمی ہوئے، خاص طور پر اسٹیل کی گیندوں سے بھرے تھیلوں پر مشق کرتے وقت۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، مسلسل مشق ہی اس فن میں مہارت حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا کا نیا سپر اسٹار، معصوم ہاتھی کا بچہ

ژینگ نے ان افواہوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جاتا ہے کہ آئرن سینڈ پام کے ماہر اپنے ہاتھ گرم ریت سے بھرے برتنوں میں ڈالتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ زیادہ تر کنگ فو فلموں میں دکھائی جانے والی کہانیوں کا حصہ ہیں۔

آج ژینگ لونگشیانگ کی تقریباً تین انچ موٹی ہتھیلیاں ان کی 20 سالہ انتھک محنت اور غیرمعمولی لگن کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

editor

Related Articles