ایران پر پابندیوں میں نرمی شرائط سے مشروط، سپریم لیڈر فعال کردار ادا کر رہے ہیں ، مارکو روبیو

ایران پر پابندیوں میں نرمی شرائط سے مشروط، سپریم لیڈر فعال کردار ادا کر رہے ہیں ، مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دینا پابندیوں میں نرمی کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام، خصوصاً افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات پر بھی بامعنی مذاکرات کرنا ہوں گے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کی خارجہ پالیسی قومی مفادات اور امریکی شہریوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا ا کہ امریکا آج بھی دنیا کی اہم ترین عالمی طاقت ہے اور اس طاقت کا استعمال قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیا جانا ضروری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف کیے گئے حالیہ فوجی آپریشن میں امریکا اپنے تمام بنیادی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچا اور تہران کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

 یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی اہم ملاقات، پاک امریکا تعاون بڑھانے پر اتفاق

مارکو روبیو نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر زیادہ فعال انداز میں معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں اور اہم فیصلوں میں براہ راست کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت مستقبل کے مذاکرات پر اثرانداز ہو سکتی ہے تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی پہلی شرط آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا ہے تاکہ عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ ان کے بقول ایران کو واضح طور پر یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے یہ اہم بحری گزرگاہ بلا رکاوٹ کھلی رہے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایران کے ساتھ تاریخی معاہدے سے متعلق بڑا اعلان

امریکی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ پابندیوں میں نرمی صرف اسی صورت ممکن ہوگی جب ایران اعتماد سازی کے عملی اقدامات کرے، جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے شفافیت دکھائے اور عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے۔

editor

Related Articles