ایران کی سپریم کونسل نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام تجارتی اور دیگر بحری جہازوں کو مقررہ اوقات اور مخصوص راستوں کے تحت گزرنا ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو محفوظ بنانا اور حالیہ کشیدگی کے بعد جہاز رانی کی سرگرمیوں کو معمول پر لانا ہے۔ سپریم کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جہازوں کی آمد و رفت کی نگرانی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور تمام بحری کمپنیوں کو نئی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے آئندہ 60 روز تک کسی قسم کی فیس یا اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔ اس دوران سکیورٹی اور آپریشنل انتظامات سے متعلق تمام اخراجات ایرانی حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ایرانی سپریم کونسل نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں اور دیگر ممکنہ خطرات کی صفائی کا عمل اسلام آباد معاہدے کے تحت انجام دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق بحری راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ ادارے اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ اقدامات کریں گے۔
ایران کا یہ اعلان خطے میں کشیدگی میں کمی اور بحری تجارت کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی پالیسی تبدیلی کو عالمی منڈیوں میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔