مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے روزگار کے شعبے میں ایک منفرد موقع پیدا کر دیا ہے جہاں لوگ گھر بیٹھے اپنی روزمرہ سرگرمیوں کی ویڈیوز بنا کر ڈالرز کما رہے ہیں۔
بھارت میں ہزاروں افراد گھریلو کاموں کی ریکارڈنگ کے ذریعے روبوٹس کو تربیت دینے کے عمل کا حصہ بن چکے ہیں جس کے بدلے انہیں باقاعدہ معاوضہ دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جدید ہیومنائیڈ روبوٹس کو انسانی انداز میں کام سکھانے کے لیے ایسے ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے جو انسانوں کی حقیقی حرکات و سکنات پر مبنی ہو۔ اسی مقصد کے لیے افراد اپنے سروں پر کیمرے یا اسمارٹ فون نصب کرکے روزمرہ کے کاموں جیسے کپڑے تہہ کرنا، کھانا تیار کرنا، پھل کاٹنا اور دیگر گھریلو سرگرمیاں ریکارڈ کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہ ویڈیوز مصنوعی ذہانت کے نظام کو تربیت دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
جنوبی بھارتی شہر چنئی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون بھی اسی شعبے سے وابستہ ہیں جو روزانہ مختلف گھریلو کاموں کی ویڈیوز تیار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کام کے بدلے انہیں فی گھنٹہ مناسب معاوضہ ملتا ہے، جس سے اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا ڈیٹا مستقبل میں ایسے روبوٹس کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گا جو انسانی ماحول میں بہتر انداز سے کام کر سکیں گے۔ کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس وقت لاکھوں ایسی ویڈیوز جمع کر رہی ہیں تاکہ روبوٹس کو پیچیدہ اور باریک انسانی حرکات سمجھائی جا سکیں۔
دوسری جانب بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال سے روایتی ملازمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسان اور روبوٹ ایک دوسرے کے معاون کے طور پر کام کریں گے جس سے نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کے نزدیک مصنوعی ذہانت کی یہ پیش رفت عالمی معیشت اور روزگار کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔