وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم ریلیف پیکیج متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ادویات کی مقامی تیاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی منصفانہ فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی وابستگی غیر متزلزل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینسر جیسے موذی امراض نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے خاندانوں پر بھی شدید مالی اور جذباتی بوجھ ڈالتے ہیں، جسے کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
کینسر کے مریضوں کے لیے بڑے ریلیف کے تحت محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی مقامی تیاری کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کینسر اور دیگر امراض کی ادویات کی مقامی پیداوار میں استعمال ہونے والے 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر عائد کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس اقدام سے ادویات ساز صنعت کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں کینسر سمیت دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
حکومت کے مطابق مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف درآمدی انحصار کم ہوگا بلکہ مریضوں کو نسبتاً کم قیمت پر علاج کی سہولت بھی فراہم ہو سکے گی۔