تاریخی حجاز ریلوے منصوبے کی بحالی،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اہم معاہد ہ طے

تاریخی حجاز ریلوے منصوبے کی بحالی،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اہم معاہد ہ طے

سعودی عرب اور ترکیہ نے ریلوے اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے لیے اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے ہیں جسے تاریخی حجاز ریلوے منصوبے کی بحالی اور خلیجی خطے کو یورپ سے جوڑنے والی نئی تجارتی راہداری کے قیام کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے سے خطے میں تجارت، سفر اور نقل و حمل کے شعبوں میں نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق ریاض میں ہونے والی تقریب میں سعودی وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجاسر اور ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ و انفرااسٹرکچر عبدالقادر اوغلو نے ریلوے اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ معاہدے ایک وسیع علاقائی منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت ترکیہ، شام اور اردن کے راستے خلیجی ممالک کو یورپ سے زمینی رابطے کے ذریعے جوڑا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں ترکیہ، شام اور اردن کے درمیان متعدد رابطے ہوئے جن میں سرحد پار نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے آئندہ چار سے پانچ برس کا مشترکہ روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اسی منصوبے کے تحت ترکیہ نے شام کی سرحد کے قریب برسوں سے غیر فعال ریلوے لائنوں کی بحالی کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان، ایران، ترکیہ اور سعودی عرب متحد ہو جائیں تو کوئی عالمی طاقت مقابلہ نہیں کر سکتی، ایرانی سفیر رضا امیری

منصوبے کے مطابق نئی راہداری ترکیہ کے ریلوے نیٹ ورک کو جنوبی یورپ سے منسلک کرے گی جہاں سے یہ شام کے اہم شہروں حلب اور دمشق سے گزرتے ہوئے اردن کے دارالحکومت عمان اور بحیرہ احمر کی بندرگاہ عقبہ تک پہنچے گی۔ بعد ازاں اس نیٹ ورک کو خلیجی ممالک تک توسیع دی جائے گی، جس سے سامان اور مسافروں کی نقل و حمل تیز، کم خرچ اور زیادہ مؤثر بن سکے گی۔

ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اوغلو نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ تاریخی حجاز ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے مستقبل میں اسے سلطنت عمان تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے بحر ہند تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی اور یہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گا۔

واضح رہے کہ حجاز ریلوے سلطنت عثمانیہ کے دور میں 1900 سے 1908 کے درمیان تعمیر کی گئی تھی اور اسے اُس زمانے کے عظیم ترین انفرااسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر بحال ہو جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت اور سفری روابط کے نقشے کو تبدیل کر سکتا ہے۔

editor

Related Articles