پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم 374 ارب ڈالر سے بڑھ گیا

پاکستان کی جی ڈی پی  کا حجم  374 ارب ڈالر سے بڑھ گیا

پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم 36 ارب 70 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 374 ارب 90 کروڑ ڈالرز ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران معیشت کا حجم بڑھ کر 374 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو مالی سال 2023 کے دوران 338 ارب 15 کروڑ ڈالرتھا،  2018 میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان کی جی ڈی پی 356 ارب ڈالر تھی۔ تاہم اس کے دور میں یہ کم ہو کر 280 ارب ڈالر تک گر گیا جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے آخری سال 340 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی فوج کی ابراہیم رئیسی کےہیلی کاپٹر حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال مہنگائی11 فیصد پہ ہونے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ IT ایکسپورٹ میں بھی تاریخی اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مسلسل سرپلس، تجارتی خسارہ بھی تنزلی کی طرف ہے،پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی مسلسل ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔

قومی موقر نامے کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران36ارب 70 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر معیشت کا حجم بڑھ کر 374 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیاجو کہ مالی سال 2023 کے دوران 338 ارب 15 کروڑ ڈالر رہا تھا، ملک میں غیر معمولی مہنگائی کے نتیجے میں یہ اضافہ ہوا۔ کمیٹی نے مالی سال 2022 میں شرح نمو 6.18 فیصد بڑھنے کی منظوری دی، جو پی ٹی آئی حکومت میں بڑا اضافہ تھا، اس کے بعد سے گزشتہ برس تک شرح نمو میں کمی دکھی گئی، جو موجودہ مالی سال میں بحال ہوئی ہے۔

پاکستانیوں کی فی کس سالانہ آمدنی میں 90 ہزار 534 روپے کا اضافہ ہوگیا۔پاکستانیوں کی فی کس آمدنی اور ملکی معیشت کے حجم میں اضافہ ریکارڈ گیا گیا۔ سرکاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال ملکی معیشت میں حجم میں 34 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔معیشت کا حجم 341 ارب ڈالر سے بڑھ کر 375 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اسی طرح پاکستانیوں کی ماہانہ فی کس آمدنی میں 7 ہزار 544 روپے کااضافہ ہوا۔فی کس سالانہ آمدنی میں 90 ہزار 534 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سالانہ فی کس آمدنی 4 لاکھ 75 ہزار 281 روپے تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے آئندہ بجٹ کیلئے 2 اہم ٹیکس تجاویز مسترد کر دیں

گزشتہ مالی سال فی کس سالانہ آمدنی 3 لاکھ 84 ہزار 747 روپے تھی جبکہ ڈالرز میں فی کس سالانہ آمدنی میں بھی 129 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ گزشتہ مالی سال ڈالر ٹرم میں فی کس آمدنی 1551 ڈالر رہی ۔ملکی معیشت کے حجم میں مقامی کرنسی میں 22 ہزار 170ارب روپے اضافہ ہوا۔حجم میں نمایاں اضافے کی وجوہات میں ڈبل ڈیجٹ میں مہنگائی شامل ہے۔ معیشت کا مجموعی حجم 106 ہزار 45ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *