آزاد جموں کشمیر کے صنعتی شہر میرپور اور گرد و نواح میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی حالیہ احتجاجی کال سے عوام نے بیزاری کا اظہار کر دیا ہے۔
میرپور شہر میں اتوار کی صبح سے ہی شہر بھر میں کاروباری مراکز کھلے ہوئے ہیں اور زندگی کی رونقیں معمول کے مطابق بحال ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور شواہد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہریوں نے ہڑتالی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے روزمرہ کے امور کو ترجیح دی ہے۔
مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے کے لیے اتوار کی صبح ٹھیک 7 بجے میرپور پولیس کی جانب سے پورے شہر میں ایک گرینڈ فلیگ مارچ کیا گیا۔
اس فلیگ مارچ کا مقصد شرپسند عناصر کو یہ واضع پیغام دینا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
فلیگ مارچ کے بعد شہر کی تمام اہم شاہراہوں، چوکوں اور بازاروں میں دکانیں معمول کے مطابق کھل گئیں، لوگ اپنے دفاتر اور کاروباری مقامات کی طرف رواں دواں دکھائی دیے اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر پوری طرح متحرک رہی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میرپور کے شہری بغیر کسی خوف و ڈر کے اپنے روزگار میں مصروف ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امن دشمن عناصر کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل احتجاج اور ہڑتالوں کی وجہ سے پہلے ہی شدید معاشی نقصان اٹھا چکے ہیں، اس لیے اب وہ کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے جو ملکی ترقی اور امن میں رکاوٹ بنے۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے عوامی ایکشن کمیٹی مختلف مطالبات، بالخصوص بجلی کے بلوں اور آٹے پر سبسڈیز (رعایت) کے حوالے سے احتجاجی تحریک چلا رہی تھی۔
ابتدا میں ان مسائل پر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے بعد، اس کمیٹی کے چند دھڑوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کیا، جس کے بعد حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اس تنظیم کو ‘کالعدم’ قرار دے دیا تھا۔
میرپور چونکہ آزاد کشمیر کا ایک بڑا معاشی اور صنعتی مرکز ہے، اس لیے یہاں طویل لاک ڈاؤن یا ہڑتالوں سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔
اتوار کا دن ہونے کے باوجود صبح 7 بجے سے ہی شہر کا کھل جانا اور پولیس کا متحرک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ اور عوام اب امن کے قیام کے لیے ایک صفحے پر آ چکے ہیں۔