رانا ثناء اللہ نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے بڑا دعوی کر دیا

رانا ثناء اللہ نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے بڑا دعوی کر دیا

اسلام آباد میں گلگت بلتستان کی حکومت سازی سے متعلق سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف جماعتیں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔ انتخابات کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی نمبر گیم کے باوجود سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید تبدیل ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی حساب کتاب حتمی نہیں اور حکومت سازی کے معاملے میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی سے متعلق حتمی تصویر 15 جون کے بعد سامنے آئے گی۔ ان کے مطابق موجودہ نشستوں کی صورتحال میں تبدیلی کا امکان موجود ہے اور مسلم لیگ (ن) کو مزید دو یا تین نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں، جس کے بعد سیاسی منظرنامہ مختلف ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔

  یہ بھی پڑھیں :گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی اورن لیگ کے درمیان اتحاد کا فیصلہ،حکومت سازی کا نیا فارمولا طے

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت حکومت بنانے کے لیے درکار مزید تین نشستیں حاصل کر لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور اسے حکومت سازی کے لیے بہتر پوزیشن حاصل ہے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ موجودہ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ آزاد امیدواروں نے 7 نشستیں حاصل کی ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے حصے میں 6 نشستیں آئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد ارکان کی حمایت آئندہ حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :گلگت بلتستان میں اتحادی حکومت بنے گی ، خرم دستگیر کا دعوی

حتمی صورتحال کا تعین 15 جون کو پانچ حلقوں کے 26 پولنگ اسٹیشنز پر ہونے والی دوبارہ پولنگ کے بعد ہوگا، جس کے نتائج گلگت بلتستان میں اقتدار کے توازن اور حکومت سازی کے عمل پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

editor

Related Articles