گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی اورن لیگ کے درمیان اتحاد کا فیصلہ،حکومت سازی کا نیا فارمولا طے

گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی اورن لیگ کے درمیان اتحاد کا فیصلہ،حکومت سازی کا نیا فارمولا طے

وفاقی حکومت میں اتحادی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن اب گلگت بلتستان میں بھی مشترکہ حکومت بنانے پر متفق ہو گئی ہیں۔  نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ابتدائی سطح پر ہونے والی مشاورت کے بعد حکومت سازی کے لیے حتمی سیاسی فریم ورک تقریباً طے پا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا یہ فیصلہ وفاقی سطح پر موجود سیاسی تعاون اور اتحادی طرزِ حکومت کے ماڈل کو آگے بڑھانے کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں سیاسی استحکام برقرار رکھنا اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی اور گورنر مسلم لیگ ن سے ہوگا

 نجی ٹی وی  کے مطابق طے پانے والے فارمولے کے تحت گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ کا عہدہ پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس ہوگا جبکہ گورنر کا عہدہ پاکستان مسلم لیگ ن کو دیا جائے گا۔ اس تقسیم کو دونوں جماعتوں کے درمیان طاقت کے توازن اور سیاسی اعتماد سازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزارتوں کی تقسیم کا 60 اور 40 فیصد فارمولا

 نجی ٹی وی  کے مطابق اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کے لیے 60 اور 40 فیصد کا فارمولا زیر غور ہے، جس کے تحت اکثریتی حصہ پیپلزپارٹی جبکہ کم حصہ مسلم لیگ ن کو دیا جائے گا۔ اس حوالے سے حتمی فہرست اور محکموں کی تقسیم پر آئندہ دنوں میں مزید مشاورت متوقع ہے۔

وفاقی طرز کی سیاست کا گلگت بلتستان میں تسلسل

  یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وفاق میں جاری اتحادی سیاست اب گلگت بلتستان تک بھی منتقل ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان یہ تعاون نہ صرف حکومت سازی کو آسان بنائے گا بلکہ خطے میں پالیسی تسلسل اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

آئندہ حکمت عملی پر مزید مشاورت جاری

ذرائع کے مطابق ابھی یہ ابتدائی فریم ورک ہے اور آئندہ چند دنوں میں دونوں جماعتوں کی قیادت مزید ملاقاتیں کرے گی جن میں وزارتوں کی حتمی تقسیم، اہم عہدوں کی نامزدگی اور حکومتی ترجیحات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اتحاد اسی فارم میں برقرار رہتا ہے تو گلگت بلتستان میں ایک مضبوط اتحادی حکومت وجود میں آ سکتی ہے جو آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہوگی۔

editor

Related Articles