مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کے بعد اتحادی حکومت قائم ہوگی اور مسلم لیگ ن سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی۔
ایک انٹرویو میں خرم دستگیر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن 13 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ان کے مطابق انتخابی میدان میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہے جبکہ ایک یا دو نشستوں پر استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار بھی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔
خرم دستگیر نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے سابق دورِ حکومت میں گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور خطے کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کا موسم اور جغرافیائی حالات انتہائی دشوار ہیں، جس کے باعث وہاں جدید سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
خرم دستگیر خان نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے ناران سے چلاس تک موٹروے معیار کی سڑک تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے شمالی علاقوں تک رسائی مزید آسان ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابوسر کے مقام پر تقریباً ساڑھے 13 کلومیٹر طویل سرنگ بھی تعمیر کی جائے گی۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج اور مختلف سیاسی جماعتوں کے دعووں نے سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے، جبکہ حتمی صورتحال سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد واضح ہوگی۔