وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے توانائی، آبی وسائل، شہری ترقی اور صحت کے مختلف منصوبوں کے لیے اہم مالی تخصیصات کا اعلان کیا ہے، ان اقدامات کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور معیشت میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے
بجلی کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 116.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم کے تحت قابلِ تجدید توانائی اور دیگر منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے: 10.2 ارب اور 3 ارب روپے
واپڈا کے شمسی اور ہوا سے بجلی کے 9 منصوبے: 50.2 ارب روپے
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 8 ہائیڈل منصوبے: 13.1 ارب روپے
پہلے سے جاری واپڈا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری: 158 ارب روپے سے زائد
حکومتی مؤقف کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
آبی وسائل اور بڑے ڈیم منصوبے
پانی کے منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دیامر بھاشا ڈیم: 14 ارب روپے
مہمند ڈیم: 15 ارب روپے
داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ: 22 ارب روپے
کراچی کے بڑے پانی کے منصوبے (کے-4): 10 ارب روپے
یہ منصوبے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
شہری ترقی، صنعت اور روزگار
بجٹ میں شہری ترقی اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے بھی اہم فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
شہری ترقی اور ہاؤسنگ: 54.6 ارب روپے
صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت: 6.6 ارب روپے
وزیر خزانہ کے مطابق شہری مراکز ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں، جبکہ یہ قومی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔
صحت اور سماجی شعبہ
صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ بنیادی طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے اور عوامی صحت کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔