خلیجی ملک سعودی عرب نے موسمِ گرما کی شدید ترین لہر اور غیر معمولی درجہ حرارت کے پیشِ نظر مزدوروں اور محنت کشوں کے تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔
سعودی وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں نجی شعبے کے تمام اداروں اور کمپنیوں کے لیے دوپہر کے وقت براہِ راست سورج کی روشنی میں آؤٹ ڈور (بیرونی یا کھلے آسمان تلے) کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق 15 جون سے ہو چکا ہے اور یہ پابندی 15 ستمبر تک مسلسل نافذ العمل رہے گی۔
وزارتِ انسانی وسائل نے قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کے باہمی تعاون سے اس نئے ضابطے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قانون کے تحت دن کے 12:00 بجے سے لے کر سہ پہر 3:00 بجے تک کسی بھی قسم کے بیرونی کام کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔
اس پابندی کا بنیادی مقصد صحرائی مٹی اور شدید ترین گرمی کے باعث لکیر کے اس پار کام کرنے والے لاکھوں کارکنوں کی صحت اور زندگی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ تپتی دھوپ کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیشہ ورانہ اور طبی خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
وزارت نے تمام آجروں (کفیلوں اور کمپنیوں) پر زور دیا ہے کہ وہ روزانہ کام کے اوقات کار کو اس نئے ضابطے کے مطابق ترتیب دیں اور کام کی جگہوں پر مزدوروں کے لیے پینے کے ٹھنڈے پانی اور سائے جیسے ضروری حفاظتی اقدامات کو فوری نافذ کریں۔
خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب میں جون سے ستمبر کے مہینوں میں گرمی کا پارہ اکثر 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں براہِ راست دھوپ میں تپتی ہوئی سڑکوں، عمارتوں کے ڈھانچوں اور صحرائی علاقوں میں کام کرنا انسانی زندگی کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
گرمی کی اس شدت سے مزدوروں میں ‘ہیٹ اسٹروک’ (لو لگنا)، جسم میں پانی کی شدید کمی، اور دیگر اعصابی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اپنے وژن 2030 کے تحت جہاں معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، وہاں مزدوروں کے حقوق اور ان کی صحت کے بین الاقوامی معیار کو اپنانا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سال 2026 میں بھی اس قانون کو پوری سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے تاکہ تعمیراتی اور صنعتی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں تارکینِ وطن، جن میں بڑی تعداد پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کی ہے، کو سفاکانہ گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماضی میں خلیجی ممالک پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہاں مزدوروں سے شدید گرمی میں بھی سخت کام لیا جاتا ہے۔ سعودی وزارتِ انسانی وسائل کا یہ قانون اور ‘قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ حفاظت’ کی نگرانی یہ ثابت کرتی ہے کہ ملک اب مزدوروں کے حقوق کے عالمی قوانین کو سنجیدگی سے نافذ کر رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر سعودی عرب کا امیج مزید بہتر ہوگا۔