آج وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر رہی ہے تاہم ملک کی سب سے بڑی حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اس اہم موقع پر پاکستان میں موجود نہیں بلکہ سعودی عرب کے نجی دورے پر ہیں۔
نواز شریف جنیوا سے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچے جہاں کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان کے سفیر احمد فاروق، قونصل جنرل اور مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف سعودی عرب میں عمرہ ادا کریں گے جبکہ مدینہ منورہ جا کر روضۂ رسول ﷺ پر حاضری بھی دیں گے۔ ان کے دورے کے دوران مسجد نبوی ﷺ میں نماز جمعہ کی ادائیگی بھی شیڈول کا حصہ ہے۔
نواز شریف کی بجٹ کے روز بیرون ملک موجودگی سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے اہم سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا سعودی عرب کا دورہ پہلے سے طے شدہ نجی اور مذہبی نوعیت کا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ نواز شریف ملک سے باہر ہیں تاہم وہ پارٹی قیادت اور حکومتی معاملات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اہم سیاسی امور پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک اہم امتحان تصور کیا جا رہا ہے ایسے میں نواز شریف کی عدم موجودگی بھی سیاسی حلقوں میں مختلف تبصروں کا باعث بن رہی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بجٹ کی تیاری اور منظوری کا تمام عمل حکومت اور متعلقہ ٹیم کی نگرانی میں مکمل کیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران نواز شریف کی توجہ مذہبی عبادات، عمرہ کی ادائیگی اور مقدس مقامات پر حاضری پر مرکوز رہے گی جبکہ ان کی وطن واپسی کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔