صنعتی شہر گوجرانوالہ اور اس کے گردونواح میں ایل پی جی (مائع پیٹرولیم گیس) کی قیمتوں میں مسلسل اور بے لگام اضافے نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق شہر بھر کے مختلف بازاروں اور دکانوں پر ایل پی جی کی قیمت 520 روپے سے لے کر 550 روپے فی کلو گرام کے درمیان وصول کی جا رہی ہے، جبکہ دور دراز کے پسماندہ علاقوں اور دیہات میں یہ قیمت تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 600 روپے فی کلو گرام تک پہنچ چکی ہے۔
اوگرا (ائل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخنامے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایل پی جی مافیا اور دکانداروں نے من مانے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے 2 وقت کا کھانا پکانا بھی انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
گھریلو بجٹ تباہ، سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے بحران بڑھا دیا
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ کے بیشتر شہری اور مضافاتی علاقوں میں سوئی گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور گیس کے انتہائی کم پریشر نے پہلے ہی گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر رکھے تھے۔
سستی گیس نہ ہونے کے باعث عوام متبادل کے طور پر ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہوئے، لیکن اب ایل پی جی کی بلیک میں فروخت اور قیمتوں کے اس حالیہ طوفان نے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت مہنگائی کم کرنے کے دعوے کر رہی ہے، تو دوسری طرف روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
عوام نے اعلیٰ حکام اور مقامی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں، قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مجسٹریٹس کو متحرک کریں اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں ڈالیں۔
توانائی کا بحران اور ایل پی جی پر بڑھتا انحصار
پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح گوجرانوالہ میں بھی موسم کی تبدیلیوں اور نیٹ ورک کی بوسیدگی کے باعث سوئی گیس کی سپلائی کا شدید بحران رہتا ہے۔ گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں (سرکلر ڈیٹ) اور درآمدی ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کے مہنگے سودوں کی وجہ سے پائپ لائن کے ذریعے ملنے والی گیس اب ایک عیاشی بن چکی ہے۔
نتیجتاً، ملک کی ایک بہت بڑی آبادی کا انحصار اب ایل پی جی سلنڈرز پر منتقل ہو چکا ہے۔ چونکہ ایل پی جی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ نجی درآمدا کنندگان اور لوکل ڈسٹری بیوٹرز کے ہاتھ میں ہے، اس لیے وہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ یا گیس کی مقامی طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھا کر آرٹیفیشل (مصنوعی) شارٹیج پیدا کرتے ہیں اور قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ گوجرانوالہ جیسے گنجان آباد صنعتی شہر میں گیس کا یہ بحران ہر سال شدت اختیار کر جاتا ہے۔
اوگرا کی رٹ کا خاتمہ
یہ بحران براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور ریگولیٹری باڈی (اوگرا) کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب سرکاری نرخنامے اور بازار کی اصل قیمت میں 150 سے 200 روپے فی کلو کا واضح فرق آ جائے، تو اسے مارکیٹ اکنامکس نہیں بلکہ کھلی منافع خوری اور انتظامیہ کی غفلت کہا جائے گا۔
سپلائی چین اور بلیک مارکیٹنگ
گوجرانوالہ کے دور دراز علاقوں اور دیہات میں قیمت کا 600 روپے تک پہنچنا یہ ثابت کرتا ہے کہ سپلائی چین میں مڈل مین (آڑھتی یا ہول سیلر) کا کردار انتہائی منفی ہو چکا ہے۔ شہر سے دیہات تک گیس پہنچانے کے نام پر ٹرانسپورٹیشن اخراجات کا بہانہ بنا کر اضافی وصولی کی جا رہی ہے۔