سینئر تجزیہ کارمزمل سہروردی نے کہا ہے کہ چودھری پرویز الہی کو عدالت سے رہائی مل گئی لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی میڈیا ٹاک یا پیغام جاری نہیں کیا گیا ہے ۔
مزمل سہروردی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ چودھری پرویز الہی کی جانب سے ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے ، حالانکہ ان کی رہائی کے بعد بیرسٹرگوہر ، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت دیگر نے ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن ان کی طرف سے کسی کو نہ ملنے کا وقت دیا گیا اور نہ ہی وہ کسی سے ملنا چاہتے ہیں، وہ دو ہفتوں تک کسی سے ملاقات نہیں کریں گے ۔ سینئر صحافی نے کہا کہ چودھری مونس الہی بھی اپنے والد کی رہائی کے بعد مکمل خاموش ہیں ،یہ خاموشیاں اب کیا پیغام دے رہی ہیں ؟ کیا چودھری پرویز الہیٰ خاموش رہنے کی شرط پر ضمانت لے کر باہر آئے ہیں اور کیا اس میں مونس الہی کی خاموشی بھی شامل ہے؟ ۔
یہ بھی پڑھیں: ایس آئی ایف سی (SIFC) کے تحت ملک گیر الیکٹرک چارجنگ سٹیشن لگانے کے لیے بڑا گروپ سامنے آگیا
مزمل سہروردی نے کہا کہ ذمہ دار ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ چوہدری پرویز الہی کی رہائی کا معاہد فیصل واڈا نے کرایا ہے، فیصل واڈا نے مونس الہی کے کہنے پر چوہدری پرویز الہی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک بات کروائی ہےجس میں چوہدری پرویزالہی کو پہلی مرحلے میں خاموش رہنے کا کہا گیا ہے یا دو تین ہفتے وہ کسی سے کوئی بات نہیں کریں اور مکمل خاموش رہ کر معاہدے کی پاسداری کریں گے کیونکہ یہ ڈیل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
سینئر تجزیہ کار کہنا تھا کہ ڈیل کے مطابق چوہدری پرویز الہی نے خاموش رہنا ہے، جس پر وہ ابھی تک عمل کر رہے ہیں حتی کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے سینیئر رہنماؤں سے بھی ملاقات نہیں کی اور وہ اپنے اردگر اور علاقے کے لوگوں سے ملاقات کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ چوہدری پرویز الہی کی خاموشی بہت سے پیغام دے رہی ہے ، یہ خاموشی عارضی ہے یا اس کے پیچھے کیا کوئی سکرپٹ موجود ہے اس کا آنے والے دو تین ہفتوں میں ہی پتہ لگے گا ۔
مزمل سہروردی نے مزید کہا کہ کچھ ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سب نے لندن کا ویزہ بھی اپلائی کیا ہے ان کی باقی ساری فیملی کے لندن کے ویزے لگ چکے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دو تین ہفتوں میں کچھ دیر کے لیے علاج کے بہانے سے لندن چلے گئے اور وہاں پر کچھ وقت گزارنے کے بعد واپس آئیں ۔