مہنگائی کے اس دباؤ نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جہاں پہلے ہی روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل تھا، اب ایل پی جی کی خودساختہ بڑھتی قیمتیں ان کے بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔
لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل خودساختہ اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ، سرکاری طور پر ایل پی جی کی قیمت 308 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود شہر بھر میں یہ 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جس سے سرکاری نرخ نامہ غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اس تیزی سے اضافہ ان کی زندگی کو مزید دشوار بنا رہا ہے، اوپن مارکیٹ میں قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں اور بعض مقامات پر روزانہ 10 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رکشہ ڈرائیورز نے بھی ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ، ان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے ان کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ کرایے وہ فوری طور پر نہیں بڑھا سکتے، جبکہ اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں، اس صورتحال نے ان کے روزگار کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔
دکانداروں کی جانب سے من مانے نرخ وصول کرنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
شہریوں نے متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اوپن مارکیٹ میں غیر قانونی اضافے کو روکا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے اور مہنگائی کے اس بوجھ میں کمی آ سکے۔