برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی جماعت کی قیادت سے مستعفی ہونے اور وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد برطانوی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔
ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ پارٹی کی خواہش پر لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں تاہم نئی قیادت کے انتخاب تک بطور وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے تاکہ اقتدار کی منتقلی کا عمل منظم اور ہموار انداز میں مکمل ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے نامزدگیاں 9 جولائی سے شروع ہوں گی جبکہ نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی سے انتخابی شیڈول کو حتمی شکل دینے کی درخواست کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کے انتخاب کا باقاعدہ ٹائم ٹیبل جلد جاری کر دیا جائے گا۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آج صبح ان کی کنگ چارلس سے گفتگو ہوئی ہے اور وہ اپنے جانشین کو مکمل تعاون اور بھرپور حمایت فراہم کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقتدار کی منتقلی کو شفاف، منظم اور پُرامن بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران برطانوی معیشت کو مستحکم بنانے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہا یہ تاثر دیا گیا کہ لیبر پارٹی کمزور ہو چکی ہے یا ختم ہو گئی ہے، لیکن پارٹی نے عوامی اعتماد حاصل کرتے ہوئے ملک کی قیادت کی۔
کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے صرف دو سال قبل 2024 کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرکے لیبر پارٹی کو 14 سال بعد دوبارہ اقتدار میں پہنچایا تھا۔ اس کامیابی کے ساتھ کنزرویٹو پارٹی کے طویل دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
یاد رہے کہ 2010 سے 2024 تک برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے پانچ مختلف وزرائے اعظم ڈیوڈ کیمرون، تھیریسا مے، بورس جانسن، لز ٹراس اور رشی سوناک اقتدار میں رہے، جبکہ 2024 میں کیئر اسٹارمر نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا تھا۔
لیبر پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ برطانیہ کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا۔ سیاسی حلقوں میں متعدد نام زیرِ گردش ہیں، جبکہ پارٹی کے اندر مختلف دھڑے اپنی حمایت یافتہ شخصیات کو آگے لانے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔
کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد برطانیہ ایک بار پھر سیاسی تبدیلی کے دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں نئی قیادت کو معیشت، مہنگائی، عوامی خدمات اور بین الاقوامی امور سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا۔