پاکستان میں گاڑیاں مہنگی ہوگئیں، خریداروں کیلئے افسوس ناک تفصیلات

پاکستان میں گاڑیاں مہنگی ہوگئیں، خریداروں کیلئے افسوس ناک تفصیلات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر نئی ٹیکس تجاویز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مہنگی اور بڑی گاڑیوں کی درآمد مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں آٹو پالیسی، درآمدی گاڑیوں، الیکٹرک وہیکلز، موبائل فونز پر ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹیوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی جبکہ بڑی گاڑیوں پر 86 سے 92 فیصد تک اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز منظور کی گئیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق 2000 سے 3000 سی سی تک درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زائد بڑی گاڑیوں پر 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد کسٹم ڈیوٹی جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی کرنسی کی اونچی اڑان جاری،خریدار کروڑوں کمانے لگے

اجلاس میں پانچ سالہ آٹو پالیسی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ موجودہ آٹو پالیسی 30 جون کو ختم ہو رہی ہے اور نئی پالیسی کے تحت مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔

سیکریٹری تجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس اور ڈیوٹی کا بوجھ کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو 156 فیصد سے کم کرکے 74 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔

اسی طرح 1500 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹی 91 فیصد سے کم کرکے 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد جبکہ 850 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹی 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

اجلاس کے دوران بعض ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکسوں میں عوام کو حقیقی ریلیف نہیں دیا گیا۔ اس پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اگر ریلیف نہیں دیا گیا تو فنانس بل میں تبدیلیاں کیوں کی گئیں۔

الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی ای وی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی جبکہ دو کروڑ روپے سے کم قیمت کی الیکٹرک گاڑیاں بھی ایف ای ڈی سے مستثنیٰ رہیں گی۔ تاہم دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ رکن کمیٹی شاہدہ اختر نے کہا کہ جب ملک میں چارجنگ اسٹیشنز کی سہولت محدود ہے تو الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی کیسے کامیاب ہوگی۔

شرمیلا فاروقی نے الیکٹرک گاڑیوں پر نئے ٹیکسز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے یا نہیں۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اس لیے پالیسی بناتے وقت مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

قائمہ کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں کے درآمدی پرزہ جات پر ایک فیصد سیلز ٹیکس رعایت میں ایک سال کی توسیع کی تجویز بھی منظور کر لی۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ نئی آٹو پالیسی میں 1800 سی سی تک گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جا رہی جبکہ حکومت بڑی گاڑیوں کو سستا کرنے کے حق میں نہیں۔

نئی تجاویز کی منظوری کے بعد درآمدی لگژری اور بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے جبکہ چھوٹی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کے حوالے سے ٹیکس پالیسی میں مختلف تبدیلیاں متوقع ہیں۔

editor

Related Articles