موبائل فون خریدنے والوں کیلئے بڑی خبر! پی ٹی اے ٹیکس سے متعلق حقیقت سامنے آگئی

موبائل فون خریدنے والوں کیلئے بڑی خبر! پی ٹی اے ٹیکس سے متعلق حقیقت سامنے آگئی

پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں ممکنہ ردوبدل کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کے بعد صورتحال بتدریج واضح ہو رہی ہے،  مختلف حلقوں کی جانب سے ٹیکسوں کے خاتمے کے دعوے سامنے آئے تھے تاہم سرکاری سطح پر ایسی کسی مکمل رعایت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، لیکن حکومتی اور پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

متعلقہ حکام کے مطابق موبائل فونز پر موجود تمام ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اراکین کے مطابق کمیٹی اجلاسوں میں بعض موبائل فون سلیبز پر ٹیکسوں میں جزوی کمی کے امکانات پر غور کیا گیا ہے۔

رکن کمیٹی ارشد وہرہ کے مطابق 201 ڈالر سے زائد مالیت رکھنے والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں ممکنہ کمی زیر بحث آئی ہے، جبکہ مختلف قیمتوں کے زمرے میں صارفین کو محدود ریلیف دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

اسی حوالے سے قائمہ کمیٹی کے ایک اور رکن مرزا اختیار بیگ نے واضح کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی تجویز موجود نہیں،  ان کے مطابق 201 سے 350 ڈالر قیمت والے فونز پر ڈیوٹی میں کمی کی سفارشات تیار کی جا رہی ہیں، جنہیں بعد ازاں منظوری کیلئے قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :خبردار ! موبائل کی ایک پوشیدہ سیٹنگ آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی بل 2026-27 میں ایک نئی شق شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،  اس تجویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ایسے قواعد وضع کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے جن کے تحت صارفین پی ٹی اے ٹیکس اقساط میں ادا کر سکیں گے۔

اس وقت پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر ڈیوائس کی مالیت کے مطابق مختلف شرحوں سے ریگولیٹری ڈیوٹی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے،  یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے یا درآمد شدہ فونز کی رجسٹریشن صارفین کے لیے خاصی مہنگی ثابت ہوتی ہے۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق موبائل فونز سے متعلق حکومتی پالیسی گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد مرتبہ تبدیل ہو چکی ہے،  اگرچہ ملک میں مقامی سطح پر موبائل فون اسمبلنگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن درآمدی ڈیوائسز پر انحصار اور ان پر عائد ٹیکسوں کا بوجھ اب بھی برقرار ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پالیسیوں میں بار بار تبدیلی اور مستقل حکمت عملی کے فقدان سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف صارفین بلکہ موبائل فون کاروبار سے وابستہ تمام شعبوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

editor

Related Articles