گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بدامنی، ہنگامہ آرائی اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے مقدمات میں روز بروز نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت کے مطابق گوادر احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کے جوان سپاہی شبیر احمد شہید پر وحشیانہ پتھراؤ کرنے اور ان کی شہادت کا سبب بننے والے اہم ملزم صبغت اللہ نے اپنے اہلخانہ کے ذریعے رحم کی اپیل دائر کر دی ہے۔
بریکنگ اپڈیٹ🚨🚨:
سمی دین بلوچ کا تازہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل،
“اگر ماہرنگ کو عمر قید ہوگئی ہے، تو اس سے ہماری تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہمارے پاس متبادل قیادت موجود ہے۔ تحریکیں کسی فرد واحد کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ہم اب خود BYC چلائیں گے۔” https://t.co/SDlrqOI0sj
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) June 22, 2026
ملزم کے اس اقدام اور اعترافِ جرم نے تحریک کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے والے ماسٹر مائنڈز کو قانون کے کٹہرے میں بے نقاب کر دیا ہے۔
‘میرا کوئی قصور نہیں، ماہ رنگ کے احکامات پر عمل کیا’
حکام کے مطابق ملزم صبغت اللہ نے رحم کی اپیل میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ معصوم ہے اور اس کا ذاتی طور پر کوئی قصور نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری کے ’’لاپتہ افراد‘‘ میں شامل ایک اور شخص بی ایل اے کمانڈر نکلا
ملزم کا کہنا ہے کہ اسے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کی جانب سے براہِ راست احکامات اور ہدایات دی گئی تھیں، جن پر عمل کرتے ہوئے اس نے سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔
ملزم نے شبیر بلوچ شہید کے اہل خانہ اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے گمراہ کر کے اس کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا، لہٰذا اس کی کم عقلی یا لاعلمی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔
گوادر احتجاج میں ایف سی اہلکار شبیر بلوچ کے قتل کیس میں اے ٹی سی نے ماہ رنگ لانگو کو عمر قید کی سزا سنا دی، عدالت نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ سنایا pic.twitter.com/Gg5KeZsaEW
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) June 22, 2026

