بینچ نے سفارش کی ہے کہ اس عوامی اہمیت کے حامل حساس مقدمے کو سماعت کے لیے کسی دوسرے موزوں بینچ کے روبرو مقرر کیا جائے۔
چیف جسٹس کی جانب سے نئے بینچ کی تشکیل کے بعد ہی اس کیس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز دوبارہ ہو سکے گا۔
نیپرا اور وفاقی حکومت سمیت اہم ادارے فریق نامزد
یہ اہم انٹرا کورٹ اپیل شہری خاتون اشبا کامران کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے اپنے مقدمے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی)، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور وفاقی حکومت کو باقاعدہ فریق بنایا ہے۔
اپیل میں قانونی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام شہریوں سے بجلی کے بلوں کی مد میں کیپیسٹی چارجز کی وصولی براہِ راست آئینِ پاکستان کی دفعات سے متصادم ہے، لہٰذا عدالتِ عالیہ سے استدعا ہے کہ اس وصولی کو فوری طور پر کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا جائے۔
کیپیسٹی چارجز کا تنازع اور سنگل بینچ کا فیصلہ
پاکستان میں بجلی کے بلوں میں شامل ’کیپیسٹی چارجز‘ (آئی پی پیز یا نجی بجلی گھروں کو ان کی پیداواری صلاحیت کے عوض دی جانے والی رقوم، چاہے ان سے بجلی خریدی جائے یا نہ ہو) عوام اور تاجر برادری کے لیے ایک طویل عرصے سے سنگین معاشی بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
اشبا کامران نامی خاتون نے اس سے قبل سنگل بینچ کے سامنے ان چارجز کو چیلنج کیا تھا۔ سنگل بینچ کے فیصلے کے بعد اب اس معاملے کو انٹرا کورٹ اپیل (عدالت کے اندر ہی اونچے فورم پر چیلنج کرنا) کے ذریعے 2 رکنی بینچ کے سامنے لایا گیا ہے تاکہ عام صارفین کو ریلیف مل سکے۔
نیپرا اور سی پی پی اے جیسے اداروں پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ناقص معاہدوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کرتے ہیں۔
قانونی پیچیدگیاں اور عوامی ریلیف میں تاخیر
بجلی کے بلوں میں کیپیسٹی چارجز کا معاملہ صرف ایک قانونی نکتہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی جیبوں سے جڑا ہوا ایک سنگین معاشی اور سیاسی مسئلہ ہے۔
جسٹس خالد اسحاق کی جانب سے ‘ذاتی وجوہات’ کی بنا پر کیس سے معذرت کرنا اگرچہ عدالتی روایت کا حصہ ہے، لیکن اس سے اس اہم ترین عوامی نوعیت کے کیس کے فیصلے میں مزید تاخیر ہوگی۔
جب بھی کوئی جج کسی ہائی پروفائل کیس سے الگ ہوتا ہے تو نئے بینچ کی تشکیل اور اس کے سامنے دوبارہ سے دلائل کا آغاز عدالتی عمل کو طویل کر دیتا ہے۔
قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تو نیپرا، پی پی آئی بی اور وفاقی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت اور ان اداروں کا دفاع ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ چارجز بین الاقوامی اور ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ کیے گئے خودمختار معاہدوں کے تحت واجب الادا ہیں، جنہیں یکطرفہ طور پر ختم کرنا ملک کو عالمی عدالتوں میں لے جا سکتا ہے۔
دوسری طرف درخواست گزار کا یہ مؤقف کہ یہ وصولی آئین سے متصادم ہے، بنیادی انسانی حقوق اور شہریوں کے معاشی تحفظ کی دفعات پر مبنی ہے۔
اب سب کی نظریں چیف جسٹس پر ہیں کہ وہ کب نیا بینچ تشکیل دیتے ہیں اور کیا یہ بینچ آئی پی پیز کے ان متنازع چارجز پر عوام کو کوئی تاریخی ریلیف فراہم کر پاتا ہے یا نہیں۔