ضلع بدین کے تاریخی اور ثقافتی علاقے ٹنڈو غلام علی کی مشہورِ زمانہ گدھا منڈی میں بیوپاریوں اور خریداروں کا زبردست رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں گدھوں کی قیمتیں لاکھوں روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو رہی ہیں۔
اپنی نوعیت کی اس منفرد اور روایتی منڈی میں جہاں عام گدھے 40 ہزار سے 80 ہزار روپے تک دستیاب ہیں، وہاں نایاب اور خاص نسل کے طاقتور گدھوں کی مانگ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک ایک گدھا 5 لاکھ روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔
شکل و صورت نہیں، طاقت اور رفتار کی قیمت
ٹنڈو غلام علی منڈی میں موجود مقامی بیوپاریوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں گدھوں کے دام محض ان کی شکل و صورت یا رنگت دیکھ کر نہیں لگائے جاتے۔
اس منفرد مارکیٹ کا اصول یہ ہے کہ گدھے کی قیمت کا تعین اس کی جسمانی طاقت، دوڑنے کی تیز رفتار، بھاری وزن اٹھانے اور تپتی دھوپ میں طویل وقت تک کام کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور دور سے آنے والے خریدار یہاں جانوروں کا باقاعدہ ٹیسٹ لیتے ہیں۔
خریداروں کا ہجوم اور معاشی سرگرمیاں
منڈی میں اس وقت ہر طرف سندھ بھر سمیت ملک کے دیگر حصوں سے آئے ہوئے خریداروں اور بیوپاریوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ہر کوئی اپنی بساط اور ضرورت کے مطابق بہترین نسل، چست اور طاقتور گدھے کی تلاش میں مگن دکھائی دیتا ہے۔ اس مارکیٹ میں جہاں کروڑوں روپے کا سالانہ کاروبار ہوتا ہے، وہاں یہ منڈی اب بدین کے اس دور افتادہ علاقے کی ایک عالمی اور منفرد پہچان بن چکی ہے۔
ٹنڈو غلام علی میں لگنے والی یہ گدھا منڈی سندھ کی قدیم ترین روایتی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
دیہی سندھ اور تھرپارکر کے سرحدی علاقوں میں نقل و حمل، باربرداری، اور زراعتی سامان کی منتقلی کے لیے گدھا آج بھی سب سے سستا اور کارآمد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اس منڈی میں ‘لاسی’، ‘تھری’ اور ‘کچھی’ جیسی مشہور مقامی نسل کے گدھے لائے جاتے ہیں۔ بعض نایاب نسل کے گدھے اپنی تیز رفتاری اور وفاداری کی وجہ سے اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ان کی خوراک اور دیکھ بھال پر بھی خاصی رقم خرچ کی جاتی ہے۔
ٹنڈو غلام علی کی گدھا منڈی محض ایک جانوروں بازار نہیں بلکہ یہ دیہی معیشت کا ایک انتہائی اہم ستون ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور مشینی گاڑیوں کے اخراجات عام غریب کسان اور مزدور کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں، دیہی علاقوں میں روایتی باربرداری کی طرف رجحان دوبارہ بڑھ رہا ہے۔
گدھے کی قیمت کا 5 لاکھ روپے تک پہنچ جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی معیشت میں اس جانور کی افادیت آج کے جدید دور میں بھی کم نہیں ہوئی۔
سیاسی اور انتظامی نقطۂ نظر سے، حکومت اور محکمہ لائیو سٹاک کو چاہیے کہ وہ اس منڈی کو باقاعدہ ایک ثقافتی فیسٹیول کے طور پر پروموٹ کریں۔ یہاں آنے والے بیوپاریوں کے لیے پینے کے صاف پانی، سیکیورٹی اور جانوروں کے لیے طبی کیمپس کی سہولیات فراہم کر کے حکومت اس منڈی سے اچھا خاصا ریونیو بھی اکٹھا کر سکتی ہے اور مقامی سیاحت کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔