زمین کو سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھنے والی اوزون کی تہہ بتدریج بحال ہو رہی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اگر موجودہ ماحولیاتی قوانین پر عمل جاری رہا تو دنیا کے بیشتر علاقوں میں اوزون کی تہہ 2040 تک 1980 سے پہلے والی سطح پر واپس آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 1987 میں ہونے والے مونٹریال پروٹوکول کے تحت دنیا بھر کے ممالک نے اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیکلز، خصوصاً کلورو فلورو کاربنز (CFCs)، کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اسی عالمی کوشش کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق آرکٹک میں اوزون کی تہہ 2045 تک بحال ہونے کی توقع ہے، جبکہ انٹارکٹیکا میں موجود اوزون ہول، جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، اس کی مکمل بحالی 2066 تک متوقع ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیکلز کئی دہائیوں تک فضا میں موجود رہتے ہیں۔
ماہرین اس پیش رفت کو ماحولیاتی تحفظ کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ اگر ممالک مل کر ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں تو زمین کا قدرتی نظام وقت کے ساتھ خود کو بحال کر سکتا ہے۔
تاہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اوزون کی مکمل بحالی کا عمل سست ہے اور اس پر موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی حالات کے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے موجودہ قوانین پر مسلسل عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔