وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا ادویات سے متعلق بڑا اعلان

وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا ادویات سے متعلق بڑا اعلان

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں ادویات کی کوالٹی کو یقینی بنانے اور جعلی دواؤں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے آئندہ 60 دن کے اندر بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کا مژدہ سنا دیا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار فارما انڈسٹری میں چینی سرمایہ کاری لانے کے لیے 17 اور 18 جولائی کو ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے پاکستان کو ادویات کے خام مال کی تیاری میں خود کفیل بنایا جائے گا۔

60 دن میں بارکوڈ سسٹم کا نفاذ، جعلی دواؤں کے خلاف بڑا ایکشن

وفاقی وزیر صحت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں دواؤں پر بارکوڈ سسٹم کا نفاذ 60 دن کے اندر یقینی بنایا جائے گا، جس کے لیے تمام تر تیاریاں سو فیصد مکمل کی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کا منی لانڈرنگ، جعلی ادویات میں ملوث مافیا کے خلاف بڑا حکم

انہوں نے معاشرے میں پھیلی ایک تلخ حقیقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک عام تاثر (پرسیپشن) پایا جاتا ہے کہ سر درد کی جو دوا دبئی سے آ رہی ہے وہ تو اثر کرتی ہے، لیکن وہی پاکستانی دوا اثر نہیں کرتی۔ ہو سکتا ہے یہ رائے عامہ غلط ہو، لیکن یہ پرسیپشن موجود ہے‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں جعلی دواؤں کا کاروبار اربوں ڈالر کی انڈسٹری بن چکا ہے اور بارکوڈ سسٹم کی مدد سے پاکستانی ادویات کی اسکریننگ اور ٹریکنگ ممکن ہو سکے گی، جس سے عالمی سطح پر ملکی دواؤں کا اعتماد بحال ہوگا۔

17 اور 18 جولائی کو پاک-چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس

سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان میں فارماسیوٹیکل کے شعبے کو جدید بنانے کے لیے 17 اور 18 جولائی کو ایک اہم کانفرنس ہونے جا رہی ہے، جس میں اب تک 150 مقامی فارما کمپنیوں نے اپنی رجسٹریشن کروا لی ہے۔ اس کانفرنس کا سب سے بڑا مرکز یہ ہے کہ پاکستان اس فیلڈ میں چینی سرمایہ کاری لانا چاہتا ہے۔

انہوں نے انڈسٹری کو ہدایت کی کہ صرف مفاہمت کی یادداشتوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے براہِ راست حتمی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں اور کانفرنس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی چینی کمپنیوں کے ساتھ ورچوئل میٹنگز کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔

خام مال کی 99 فیصد امپورٹ، ایک بڑا قومی چیلنج

ملکی دوا سازی کی انڈسٹری کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہترین منصوبے اور صلاحیتیں موجود ہیں، جس کی بدولت ہم اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود پاکستان میں بناتے ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ان ادویات کو تیار کرنے کے لیے درکار 99 فیصد خام مال ہمیں باہر سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے، جس میں چین سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہر سال اربوں ڈالر کا خام مال درآمد کرنا ملکی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ خام مال خود پاکستان میں تیار کریں تاکہ امپورٹ بل کو کم سے کم کیا جا سکے۔

فارما انڈسٹری کو اعتماد میں لینے کی حکومتی کوشش

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاک-چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ کانفرنس کے انعقاد سے قبل خود فارما انڈسٹری کے مالکان اور بیوپاریوں کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ صنعت کاروں کو حکومت کے اہداف، پالیسیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے پہلے سے آگاہ کیا جا سکے اور مقامی فارما انڈسٹری اس قومی عمل کا ایک فعال اور مضبوط حصہ بن سکے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں جعلی ڈرگ لائسنس جاری کرنے، جعلی ادویات کا ریکارڈ غائب کرنے پر چیف ڈرگ انسپکٹر ملازمت سے برطرف

اس کانفرنس میں چین کی 100 سے زیادہ نامور فارماسیوٹیکل کمپنیاں پاکستان کا رخ کر رہی ہیں۔

پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کا شمار ملک کے بڑے مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں ہوتا ہے، لیکن طویل عرصے سے یہ شعبہ ‘ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس’ یعنی خام مال کے لیے چین اور بھارت پر انحصار کر رہا ہے۔

ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اور امپورٹ پر پابندیوں کے باعث اکثر ملک میں جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان طویل عرصے سے ادویات کی ٹریکنگ کے لیے بارکوڈ یا ‘ٹیل اینڈ ٹریس’ سسٹم نافذ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس میں تاخیر ہوتی رہی۔

مصطفیٰ کمال نے وزارتِ صحت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کروایا ہے۔

Related Articles