سعودی عرب میں روزگار کے لیے مقیم غیرملکی ملازمین کو ڈیڈ لائن دے دی گئی، 30 جون کے بعد ایکسپائر ورک پرمٹ رکھنے والے کارکنان کو ریکارڈ سے خارج کردیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے سعودی گزٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے تحت کام کرنیوالے “قویٰ” پلیٹ فارم نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جن غیر ملکی کارکنان کے ورک پرمٹ 3 ماہ سے زائد عرصے سے تجدید نہ ہونے کے باعث زائد المیعاد ہیں ، انہیں یکم جولائی سے متعلقہ اداروں کے ریکارڈ سے خودکار طور پر خارج کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
پلیٹ فارم کے مطابق آجرین کے پاس 30 جون تک کا وقت ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے ورک پرمٹ کی تجدید کرائیں یا ان کی خدمات کسی دوسرے ادارے کو منتقل کرنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں۔
ادارے نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ اگر کسی کارکن کا ورک پرمٹ3 ماہ سے زیادہ عرصے تک زائد المیعاد رہے تو اس کا نام خودکار طریقے سے ادارے کے ریکارڈ سے حذف کر دیا جائے گا، تاہم کارکن کے ریکارڈ سے اخراج تک آجر تمام واجب الادا مالی ذمہ داریوں اور فیسوں کی ادائیگی کا پابند رہے گا۔
قویٰ کے مطابق بعض صورتوں میں کارکن کو ریکارڈ سے خارج نہیں کیا جائے گا اگر ورک پرمٹ کی میعاد ختم ہوچکی ہو لیکن اقامہ کم از کم 180 دن کے لیے مؤثر اور کارآمد ہو تو کارکن کا اندراج برقرار رکھا جا سکتا ہے، چاہے ادارہ فوری طور پر ورک پرمٹ کی تجدید نہ کراسکے۔
اگر اقامے کی باقی مدت 180 دن سے کم ہو تو آجر کے لیے اقامہ اور ورک پرمٹ دونوں کی تجدید ضروری ہوگی، بصورت دیگر متعلقہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ایسے غیرملکی کارکن جو تین ماہ سے زائد عرصے سے ایکسپائر یا غیر مؤثر ورک پرمٹ کے ساتھ کام کر رہے ہوں گے، ان کا اندراج ادارے کے ریکارڈ سے خودکار طور پر منسوخ کردیا جائے گا۔
قویٰ نے تمام آجرین پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد بقایا ورک پرمٹ فیسیں ادا کریں اور متاثرہ ملازمین کی حیثیت کو فوری طور پر قانونی بنائیں، خواہ ورک پرمٹ کی تجدید کے ذریعے یا خدمات کی منتقلی کے ذریعے تاکہ قانونی کارروائی اور اضافی مالی ذمہ داریوں سے بچا جاسکے۔