کیا مستقبل میں پارک بجلی کے بغیر روشن ہوں گے؟ سائنس دانوں کی نئی تحقیق

کیا مستقبل میں پارک بجلی کے بغیر روشن ہوں گے؟ سائنس دانوں کی نئی تحقیق

سوئٹزرلینڈ کے سائنس دان قدرتی روشنی کے ایک منفرد اور ماحول دوست نظام پر تحقیق کر رہے ہیں، جس کے تحت فنگس (کُھمبی) کی مدد سے ایسی لکڑی تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اندھیرے میں خود بخود چمک سکے۔

ماہرین کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کا مقصد پارکوں، پیدل چلنے کے راستوں اور عوامی مقامات پر روایتی اسٹریٹ لائٹس پر انحصار کم کرنا اور قدرتی ذرائع سے روشنی فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گمشدہ طوطے نے واپسی پر مالک کو حیران کر دیا

تحقیق میں سائنس دان بایولومینیسنٹ (قدرتی طور پر روشنی پیدا کرنے والی) فنگس کی خصوصیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو مستقبل میں ایسے راستے بنائے جا سکیں گے جو رات کے وقت بغیر بجلی کے ہلکی قدرتی روشنی بکھیرتے رہیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی آسکتی ہے بلکہ روشنی کی آلودگی بھی کم ہوگی، جس سے ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا پہلا لکڑی سے تیار کردہ سیٹلائٹ خلاء میں بھیج دیا گیا

سائنس دانوں کے مطابق یہ تحقیق مستقبل کے شہروں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں روایتی برقی روشنی کے بجائے قدرتی طور پر چمکنے والے مواد استعمال کیے جا سکیں گے۔

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے اور اس کے عملی استعمال میں وقت لگ سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فطرت سے ہم آہنگ ایسے منصوبے مستقبل میں ماحول دوست انفراسٹرکچر کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دنیا بھر کے شہر توانائی بچانے اور ماحول دوست متبادل تلاش کر رہے ہیں، اور قدرتی طور پر چمکنے والی لکڑی اسی سمت ایک دلچسپ پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles