پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے بھر میں شدید آندھی، گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشوں اور ژالہ باری کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 1 سے 6 جولائی تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں طوفانی بارشوں کا قوی امکان ہے، جس کے باعث لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا شدید خطرہ موجود ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیش نظر ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کرتے ہوئے ایمرجنسی انتظامات مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
مختلف اضلاع میں بارشوں کا شیڈول
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، بارشوں کا یہ سلسلہ دو مراحل میں صوبے کو متاثر کرے گا۔
پہلا مرحلہ (1 سے 6 جولائی)
اس دوران لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، شیخوپورہ اور نارووال میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
دوسرا مرحلہ (3 سے 6 جولائی)
اس دوران بارشوں کا دائرہ وسیع ہو کر ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، لیہ، میانوالی، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال اور لودھراں سمیت گردونواح کے علاقوں تک پھیل جائے گا۔
آسمانی بجلی سے بچاؤ
شہری آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے محفوظ اور پکے مقامات پر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات، درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے تلے جانے سے ہرگز گریز کریں۔
آندھی اور طوفان
گردوغبار اور تیز آندھی کے پیش نظر کچے مکانات اور سائن بورڈز سے دور رہیں۔
کسانوں کے لیے مشورہ
کسان اپنی تیار فصلوں اور مویشیوں کے حوالے سے تمام تر پیشگی اقدامات موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔
سیاحوں کے لیے الرٹ
شمالی علاقہ جات اور مری و گلیات کا سفر کرنے والے سیاح موسم کی صورتحال دیکھ کر نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں جولائی کا مہینہ روایتی طور پر مون سون کی بارشوں کے آغاز کا وقت ہوتا ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے باعث پاکستان کو شدید اور غیر متوقع موسم کا سامنا ہے، جہاں کم وقت میں بہت زیادہ بارش ہو جاتی ہے۔
لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے گنجان آباد شہروں کا نکاسی آب کا نظام (ڈسچارج سسٹم) پرانا ہونے کی وجہ سے چند گھنٹوں کی تیز بارش بھی سڑکوں کو تالاب میں تبدیل کر دیتی ہے، جسے اربن فلڈنگ کہا جاتا ہے۔
ماضی میں اس قسم کی صورتحال کے باعث اربوں روپے کا نقصان اور جانی نقصانات بھی ہو چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بار جولائی کا آغاز ہوتے ہی انتظامیہ کو قبل از وقت ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اربن فلڈنگ کا چیلنج
لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں واسا اور بلدیاتی اداروں کے لیے اگلے 6 دن انتہائی اہم ہیں۔ اگر نالوں کی صفائی اور ڈسپوزل اسٹیشنز پر بجلی کا متبادل انتظام نہ ہوا تو شہری زندگی مفلوج ہو سکتی ہے، جو حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا۔
انتظامیہ کی مستعدی
وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے کمشنرز کو الرٹ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی حکومت مونسون کے آغاز پر کسی بھی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے اور فیلڈ افسران کو خود سڑکوں پر موجود رہنا ہوگا۔
عوامی شعور کی ضرورت
پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہیلپ لائن 1129 کی تشہیر اور کسانوں و سیاحوں کو براہ راست مخاطب کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب ریسکیو کے بجائے ‘پریوینشن’ (قبل از وقت بچاؤ) کی حکمتِ عملی پر کام کیا جا رہا ہے، جو کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا بہترین طریقہ ہے۔