نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر کے لیے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش، تیز ہوائیں، آندھی، شہری سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے عوام، ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو مکمل چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق موجودہ موسمی نظام پہلے سے جاری موسمی پیش گوئیوں کے مطابق شدت اختیار کر رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کے خطرات بڑھ گئے ہیں جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور سڑکوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران موسم کیسا رہے گا ؟الرٹ جاری
پنجاب ، وفاق میں بارش
پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تیز ہواؤں، گرد آلود طوفانوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان سمیت متعدد شہروں کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔دوسری جانب گلگت، سکردو، دیامر، ہنزہ، غذر اور استور سمیت گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع جبکہ مظفرآباد، وادی نیلم، راولاکوٹ، باغ اور کوٹلی سمیت آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں بھی شدید موسمی سرگرمیوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی آندھی
خیبر پختونخوا کے چترال، سوات، دیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور وزیرستان جبکہ بلوچستان کے تربت، آواران، خضدار اور ژوب میں بھی بارش اور آندھی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سندھ کے کراچی، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، خیرپور اور دیگر علاقوں میں تیز ہواؤں اور کہیں کہیں بارش متوقع ہے۔
سیاحوں ، مسافروں کیلئے ضروری ہدایات
این ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے افراد روانگی سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے آگاہی ضرور حاصل کریں۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں اور حفاظتی ہدایات پر عمل یقینی بنائیں۔