امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سالانہ مالیاتی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ سال ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ کرپٹو کرنسی سے وابستہ کاروبار رہا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ٹرمپ نے 2025 کے دوران کرپٹو سے متعلق مختلف منصوبوں سے کم از کم 1.4 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی جو ان کی روایتی جائیداد اور ہوٹلوں کے کاروبار سے ہونے والی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی دفتر برائے سرکاری اخلاقیات (Office of Government Ethics) میں جمع کرائی گئی 927 صفحات پر مشتمل مالیاتی دستاویز میں صدر ٹرمپ کے کاروباری مفادات سرمایہ کاری جائیدادوں لائسنسنگ معاہدوں اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی تفصیلات شامل ہیں یہ دستاویز گزشتہ برس کی نسبت کئی گنا زیادہ تفصیلی ہے۔
دستاویز کے مطابق ٹرمپ کی کمپنی CIC Digital LLC جو ان کے نام سے منسوب $TRUMP میم کوائن سے وابستہ ہے نے تقریباً 636 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کی۔ اس رقم کا بیشتر حصہ Celebration Coins کے ساتھ لائسنسنگ معاہدے کے تحت رائلٹی کی مد میں وصول ہوا۔
اس کے علاوہ ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کی مشترکہ کرپٹو کمپنی World Liberty Financial بھی ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ثابت ہوئی۔ مالیاتی انکشافات کے مطابق اس منصوبے سے ٹوکن فروخت کاروباری حصص اور دیگر کرپٹو سرگرمیوں کے ذریعے سینکڑوں ملین ڈالر حاصل ہوئے جبکہ مختلف رپورٹس اس شعبے سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن کو تقریباً 800 ملین ڈالر تک قرار دیتی ہیں۔
مالیاتی گوشواروں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے روایتی کاروبار سے بھی خاطر خواہ آمدن حاصل کی۔ ان کے گالف ریزورٹس ہوٹلوں رئیل اسٹیٹ منصوبوں اور بیرونِ ملک لائسنسنگ معاہدوں سے کروڑوں ڈالر آمدن ہوئی۔ متحدہ عرب امارات قطر رومانیہ بھارت اور دیگر ممالک میں ٹرمپ برانڈ کے منصوبوں سے بھی نمایاں مالی فوائد حاصل ہوئے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے پاس متعدد بڑی امریکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری موجود ہے جن میں ایپل سمیت دیگر معروف اداروں کے حصص شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ برانڈ گھڑیوں یادگاری سکوں اور دیگر لائسنس یافتہ مصنوعات سے بھی لاکھوں ڈالر کی رائلٹی حاصل ہوئی۔
مالیاتی انکشافات کے بعد امریکا میں اخلاقی ضابطوں اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ (Conflict of Interest) پر بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ صدر کی جانب سے ایسے شعبوں میں وسیع مالی مفادات رکھنا جن پر حکومتی پالیسیاں براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں شفافیت سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر کے تمام اقدامات امریکی عوام کے مفاد میں ہیں، جبکہ ان کے کاروبار کی روزمرہ نگرانی ان کے اہل خانہ کرتے ہیں۔