پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کی جانے والی ہدف شدہ کارروائیوں پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت اور مضحکہ خیز قرار دے دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق اپنی سلامتی کے لیے یہ جائز اقدامات اٹھائے ہیں، جبکہ بھارت خود خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے۔
بھارتی پراپیگنڈا اور پاکستان کا مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ایک پریس ریلیز میں بھارتی وزارت خارجہ کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کی جانب سے ہونے والی کارروائیاں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تھیں۔
یہ کارروائیاں جائز، ہدف شدہ اور متناسب تھیں جن کا مقصد ملکی خودمختاری کا تحفظ تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک ایسا ملک جو خود مسلسل دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں ٹانگ اڑاتا ہو، اس کی طرف سے ایسا بیان آنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
نئی دہلی کا تخریبی کردار اور افغان سرزمیں کا استعمال
طاہر اندرابی نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی انتظامیہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ دہلی کی جانب سے افغانستان میں موجود مختلف دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت اور سرپرستی کی جاتی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے نظام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں امن کو خراب کرنے کے لیے ایک ’اسپوائلر‘ کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے اشتعال انگیز بیانات کو عالمی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
کشمیر کا تنازع اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’انڈین الیگلی آکومپائیڈ جموں اینڈ کشمیر‘ میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بندوق کے زور پر دبا رہا ہے، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں کالعدم تنظیموں نے پاکستان کے اندر سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملے کیے۔
پاکستان نے ان حملوں کے جواب میں افغان حدود کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کارروائی کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان پر بلاجواز تنقید کرتے ہوئے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا تھا، جس پر اب پاکستان نے سخت سفارتی ردعمل دیا ہے۔
بھارت کی بوکھلاہٹ کی وجہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ بھارت کا یہ بیان اس کی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔
پاکستان نے جب بھی اپنی بقا اور سلامتی کے لیے دہشتگردوں کے خلاف سرحد پار کارروائی کی، بھارت نے ہمیشہ دہشتگردوں کی حمایت میں بیانات داغے۔
افغانستان میں بھارت کے ‘پراکسی نیٹ ورک’ کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے نئی دہلی شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اسی لیے وہ پاکستان کے جائز دفاعی اقدامات کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ‘زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی پر گامزن رہے گا۔