ٹیلی کام ٹاورز پر سولر سسٹم لازمی کرنے کی تجویز سامنے آگئی

ٹیلی کام ٹاورز پر سولر سسٹم لازمی کرنے کی تجویز سامنے آگئی

ملک میں طویل دورانیے کی بجلی بندش کے باعث موبائل اور انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے پر وفاقی حکومت نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ کمیٹی سیکریٹری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  کے چیئرمین، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے رکن، پاور ڈویژن کے نمائندے اور ٹیلی کام صنعت سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

کمیٹی کا مقصد ایسے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے جن کے ذریعے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔ زیر غور تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دوران ٹیلی کام ٹاورز کو الگ بجلی سپلائی فراہم کی جائے تاکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز متاثر نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:گیمنگ انڈسٹری میں پاکستان کے لیے نئی امید، نوجوان کا بڑا کارنامہ

حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں بجلی کے بل بروقت ادا کر رہی ہیں اور ان کا ادائیگی کا ریکارڈ سو فیصد ہے، اس کے باوجود انہیں شیڈول کے مطابق ہونے والی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کمیٹی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو صنعتی بجلی ٹیرف دینے کی تجویز کا بھی جائزہ لے گی تاکہ کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور خدمات کی فراہمی مزید مستحکم ہو۔

یہ بھی پڑھیں :اب سولر پینل رات اور کمرے کی روشنی میں بھی بجلی بنائے گا؟

حکام کے مطابق ملک کے کئی اضلاع میں روزانہ 14 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ٹیلی کام کمپنیاں عام طور پر 3 سے 4 گھنٹے تک جنریٹرز کے ذریعے خدمات برقرار رکھ سکتی ہیں، تاہم اس سے زیادہ دورانیے کی بجلی بندش موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز کو شدید متاثر کرتی ہے۔

کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو پیش کرے۔

یہ بھی پڑھیں :بارشوں اور سیلاب کا خدشہ، ملک بھر کے ٹیلی کام آپریٹرز ہائی الرٹ

دوسری جانب وزارتِ آئی ٹی کے حکام نے تجویز دی ہے کہ مستقبل میں ٹیلی کام ٹاورز پر شمسی توانائی کے نظام (سولر پاور سسٹمز) کی تنصیب کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ بجلی کی بندش کے دوران بھی مواصلاتی نظام فعال رکھا جا سکے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال بھی ٹیلی کام سروسز میں تعطل کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔

editor

Related Articles