سائنسدانوں نے ایک ایسی نئی سولر ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو صرف سورج کی روشنی ہی نہیں بلکہ کمرے کے اندر موجود مصنوعی روشنی سے بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتے توانائی بحران اور قابلِ تجدید توانائی کی ضرورت کے پیش نظر اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے ممالک کے لیے جہاں بجلی کی قلت ایک بڑا مسئلہ ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید سولر سیلز پیرووسکائٹ نامی خاص مٹیریل سے تیار کیے گئے ہیں، جسے حالیہ برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق روایتی سلیکون سولر پینلز کے مقابلے میں پیرووسکائٹ روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مٹیریل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ سورج کی روشنی کے علاوہ ایل ای ڈی بلب اور دیگر مصنوعی روشنی سے بھی توانائی حاصل کر سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو پہلے پائیداری کے مسائل کا سامنا تھا، تاہم تائیوان کی نیشنل یانگ منگ چیاؤ ٹونگ یونیورسٹی کے محققین نے ایک خصوصی کیمیائی طریقہ استعمال کرتے ہوئے ان خامیوں کو دور کر دیا، جس کے بعد یہ سولر سیلز روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد بن گئے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ریموٹ کنٹرول، اسمارٹ سینسرز، پہننے والی الیکٹرانک ڈیوائسزاور دیگر کم توانائی استعمال کرنے والے آلات کو آسانی سے چارج کیا جا سکے گا۔اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔