آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو گئی ہے، جے ڈی وینس

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو گئی ہے، جے ڈی وینس

واشنگٹن میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور اسٹریٹجک پیش رفت پر بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بڑا اور دوٹوک بیان جاری کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ تہران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں اور مذاکرات اگر خدانخواستہ ناکام بھی ہو جاتے ہیں، تب بھی امریکا سیکیورٹی اور معاشی محاذ پر انتہائی مضبوط اور مستحکم پوزیشن میں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے منجمد اثاثوں میں سے ابتدائی مرحلے میں 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے،مسعود پزشکیان

امریکی نائب صدر نے خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی تیل کی سپلائی لائنز کی بحالی کو امریکی حکمتِ عملی کی کامیابی قرار دیا ہے۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی ریکارڈ ترسیل اور معیشت

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی اور مثبت پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ’آبنائے ہرمز‘ اب مکمل طور پر کھلی ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل دوبارہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ’کچھ مخصوص دنوں میں تو آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ مقدار میں تیل باہر جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے عالمی معیشت دوبارہ فعال ہو رہی ہے، تاہم معاشی نظام کی مکمل بحالی میں اب بھی کچھ وقت لگے گا۔’

لبنان اسرائیل معاہدہ اور ایران کا مستقبل

سفارتی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے بتایا کہ لبنان اسرائیل امن معاہدہ اور امریکا ایران مفاہمت کی یادداشت (ایم یو سی) کا سب سے بنیادی نکتہ ‘لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام’ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کیلئے سنگین خطرہ ہے، عاصم افتخار

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک مستقل اور دیرپا حل کے لیے ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ایران ایک ریاست کے طور پر بنیادی طور پر تبدیل ہو جائے گا، جو خطے کے امن کے لیے ایک تاریخی موڑ ہوگا۔

امریکا ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی اہمیت

عالمی معیشت کا تقریباً 20 فیصد خام تیل آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔

جے ڈی وینس نے یہ بیان دے کر کہ ‘مذاکرات کی ناکامی پر بھی امریکہ مضبوط رہے گا’، واشنگٹن نے ایران پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کسی دباؤ میں آ کر لچک نہیں دکھائے گا اور وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

Related Articles