وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026 تا 2027 کے بجٹ پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026 تا 2027 کے بجٹ پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026 تا 2027 کے بجٹ پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت مختلف ٹیکس اصلاحات اور شرحوں میں تبدیلیاں نافذ ہو گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ83 ہزار روپے یا سالانہ 22 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر انکم ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھی گئی ہے، حکام کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی اور موجودہ شرحیں ہی نافذ العمل رہیں گی۔

نئے بجٹ کے اہم فیصلوں کے مطابق پچاس کروڑ روپے سالانہ آمدن سے کم رکھنے والے افراد اور کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس حد تک آمدن رکھنے والوں پر ایک سے ساڑھے سات فیصد تک سپر ٹیکس لاگو تھا۔

یہ بھی پڑھیں :بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے: عطاء اللہ تارڑ

حکام کے مطابق اب 50 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد اور کمپنیوں پر آٹھ فیصد سپر ٹیکس نافذ ہوگا، جبکہ اس سے پہلے یہ شرح دس فیصد تک تھی۔ اسی طرح پندرہ کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے بعض شعبوں اور کمپنیوں پر دس فیصد سپر ٹیکس کی شرح برقرار رکھی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بینکنگ سیکٹر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور کھاد کی فروخت سے آمدن حاصل کرنے والے اداروں پر بھی دس فیصد سپر ٹیکس برقرار رہے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس کی شرحوں میں یہ تبدیلیاں بڑی آمدن والے طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر پر براہ راست اثر ڈالیں گی، جبکہ تنخواہ دار طبقہ فی الحال موجودہ نظام کے تحت ہی ٹیکس ادا کرتا رہے گا،حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانا اور بڑے آمدنی والے شعبوں سے زیادہ ریونیو حاصل کرنا ہے۔

editor

Related Articles