نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو اپنے خاندانی ریکارڈ میں کسی بھی غیر متعلقہ یا مشکوک فرد کی موجودگی کی صورت میں فوری اور آسان شکایت درج کروانے کا طریقہ فراہم کر دیا ہے۔
غلط اندراج یا تکنیکی مسئلہ؟ شہریوں کے لیے سہولت
نادرا کے مطابق بعض اوقات شہریوں کے فیملی ریکارڈ میں غلطی یا کسی تکنیکی مسئلے کے باعث ایسے افراد کی تفصیل شامل ہو سکتی ہے جو اصل میں خاندان کا حصہ نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں شہریوں کو پریشان ہونے کے بجائے فوری طور پر نادرا کے جدید ڈیجیٹل نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
پاک آئی ڈی ایپ میں نیا فیچر متعارف
ادارے نے اس مقصد کے لیے اپنی پاک آئی ڈی موبائل ایپ میں ایک خصوصی فیچر متعارف کروایا ہے جس کا نام “رپورٹ انٹرودر” رکھا گیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے شہری کسی بھی غیر متعلقہ فرد کی نشاندہی کر کے نادرا کو براہِ راست اطلاع دے سکتے ہیں۔
رپورٹ کرنے کا آسان طریقہ کار
طریقہ کار کے مطابق صارفین سب سے پہلے پاک آئی ڈی موبائل ایپ میں لاگ ان کریں۔ اس کے بعد فیملی کمپوزیشن کے سیکشن میں جائیں جہاں خاندان کے تمام افراد کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔ اگر کسی فرد کے بارے میں شک ہو تو اس کے نام پر کلک کریں اور تفصیل کھولیں۔
ایک کلک پر شکایت درج کریں
تفصیل کے نیچے موجود “رپورٹ انٹرودر” کے آپشن کو منتخب کرنے کے بعد متعلقہ معلومات نادرا کے سسٹم میں ارسال ہو جاتی ہیں۔ اس اطلاع کی بنیاد پر ادارہ مکمل جانچ پڑتال کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ریکارڈ کی درستگی کے لیے کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
شفاف اور محفوظ ڈیٹا سسٹم کی طرف قدم
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد شہریوں کے ریکارڈ کو زیادہ محفوظ، درست اور شفاف بنانا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط اندراج یا غیر متعلقہ معلومات کو بروقت درست کیا جا سکے۔ ادارے کے مطابق ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے اب شکایت درج کروانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے اور شہری گھر بیٹھے ہی اپنے ریکارڈ کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
جعلسازی کے خاتمے میں اہم پیش رفت
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ریکارڈ کی درستگی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ جعلسازی اور غلط اندراج جیسے مسائل پر بھی قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔