فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کیے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں ،مصری صدر

فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کیے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں ،مصری صدر

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بغیر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تمام بنیادی تنازعات کو انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جائے۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے بیان میں کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری فلسطین۔اسرائیل تنازع مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی اور عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب تک فلسطینی عوام کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضہ ختم نہیں ہوتا اس وقت تک امن کی تمام کوششیں ادھوری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ صرف جنگ بندی یا وقتی سیاسی اقدامات خطے میں مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتے بلکہ ایک ایسا جامع سیاسی حل درکار ہے جو انصاف، برابری اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقوں کی سلامتی، خودمختاری اور باہمی احترام کو یقینی بنانا کسی بھی امن عمل کی بنیادی شرط ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اسرائیل کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کیلئے سنگین خطرہ ہے، عاصم افتخار

مصری صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی عوام کو ان کے سیاسی، انسانی اور قانونی حقوق کی فراہمی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں پائیدار استحکام اور خوشحالی مطلوب ہے تو ایسے اقدامات کیے جانے چاہییں جو کشیدگی میں کمی لانے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

عبدالفتاح السیسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کا مستقل اور قابلِ عمل حل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا امن معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معاہدہ ہی دونوں جانب کے عوام کو محفوظ مستقبل، اقتصادی ترقی اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصر خطے میں امن کے قیام، کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق انصاف پر مبنی امن نہ صرف فلسطینی اور اسرائیلی عوام بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے، اور یہی راستہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

editor

Related Articles