آسٹریلیا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جس کے بعد میزبان انگلینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 150 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا۔ انگلش بیٹرز نے ابتدا میں محتاط انداز اپنایا تاہم درمیانی اور آخری اوورز میں جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ٹیم کو ایک قابلِ مقابلہ اسکور تک پہنچایا۔
انگلینڈ کی کپتان نیٹ برنٹ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 52 گیندوں پر ناقابلِ شکست 58 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں عمدہ شاٹس اور پراعتماد کھیل نمایاں رہا۔ آخری اوورز میں فریا کیمپ نے برق رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 28 گیندوں پر ناقابلِ شکست 44 رنز اسکور کیے جس میں چار چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ دونوں کھلاڑیوں کی شراکت نے انگلینڈ کو مضبوط مجموعہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے کم گارتھ، لوسی ہیملٹن، سوفی اور اینابیل نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی اور انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو بڑے اسکور کی جانب بڑھنے سے روکے رکھا۔ آسٹریلوی باؤلرز نے خاص طور پر آخری اوورز میں نپی تلی باؤلنگ کرتے ہوئے رنز کی رفتار کو محدود رکھا۔
151 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے پراعتماد آغاز کیا اور ابتدا ہی سے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ اوپنرز نے ٹیم کو عمدہ آغاز فراہم کیا جبکہ درمیانی اوورز میں بیٹرز نے ذمہ داری کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھایا۔ آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف صرف 17.1 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرکے فائنل یکطرفہ انداز میں اپنے نام کر لیا۔
فتح میں سب سے نمایاں کردار تجربہ کار بیٹر بیتھ مونی نے ادا کیا جنہوں نے 49 گیندوں پر 64 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیم کی کامیابی کی بنیاد رکھی۔ ان کا بھرپور ساتھ فوبی لچفیلڈ نے دیا جنہوں نے 35 گیندوں پر 48 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ دونوں بیٹرز کی ذمہ دارانہ شراکت نے انگلینڈ کی فتح کی امیدیں ختم کر دیں۔
آسٹریلیا نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ویمنز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سب سے کامیاب اور مضبوط ٹیم ہے۔ ساتویں عالمی ٹائٹل نے آسٹریلوی ٹیم کی شاندار کارکردگی، مستقل مزاجی اور عالمی کرکٹ میں اس کی حکمرانی کو مزید مستحکم کر دیا جبکہ انگلینڈ کو بھرپور مقابلے کے باوجود فائنل میں شکست کے بعد رنر اپ پر اکتفا کرنا پڑا۔