لاہور سے فیصل آباد جانے والی ایک مسافر بس میں ایم 3 موٹروے پر پچھلے پہیے جام ہونے کے باعث اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی، تاہم موٹروے پولیس نے ہیلپ لائن 130 پر اطلاع ملتے ہی فوری اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے تمام 45 مسافروں کو سامان سمیت بحفاظت نکال کر ایک بڑے جانی نقصان اور المیے سے بچا لیا۔
لاہور سے صنعتی شہر فیصل آباد جانے والی تیز رفتار مسافر بس موٹروے پر بڑے حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گئی۔
ایم 3 موٹروے پر دورانِ سفر بس کے پچھلے بائیں پہیے اچانک جام ہو گئے، جس سے پیدا ہونے والی رگڑ کے باعث تیز رفتاری کے دوران بس کے عقبی حصے میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔
بس میں سوار مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے کھڑکیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔
موٹروے پولیس کی فوری اور پیشہ ورانہ کارروائی
واقعے کی اطلاع فوری طور پر موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی سینٹرل ریجن کے پٹرولنگ افسران جدید آلات اور فائر ایکسٹنگوشرز کے ساتھ چند ہی منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
موٹروے پولیس سنٹرل ریجن کے ترجمان سید عمران احمد کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے سب سے پہلے بس میں پھنسے تمام مسافروں اور ان کے قیمتی سامان کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا، جس کے بعد فائر فائٹنگ آپریشن شروع کیا گیا۔
جانی نقصان سے بچاؤ اور جزوی نقصان
ترجمان سید عمران احمد نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے فائر ایکسٹنگوشر کا بروقت اور درست استعمال کیا گیا، جس کی بدولت آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا۔
آگ لگنے سے بس کے پہیوں اور باڈی کے پچھلے حصے کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر بالکل محفوظ رہے۔
مسافروں اور بس ڈرائیور نے موٹروے پولیس کی اس بہادرانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور شدید گرمی و ہنگامی صورتحال میں پولیس کے نظم و ضبط کو سراہا۔
واقعے کا پس منظر اور گاڑیوں کی فٹنس پر سوالات
اس حادثے کا پس منظر پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں گاڑیوں کی باقاعدہ مینٹیننس اور فٹنس سرٹیفکیٹس کے نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔
موٹروے اور ہائی ویز پر طویل سفر سے قبل گاڑیوں کے بریک سسٹم، ٹائروں کی کوالٹی اور بیرنگز کی چیکنگ نہ کرنا ایسے واقعات کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
اس سے قبل بھی کئی بار بریک فیل ہونے یا ٹائر پھٹنے کے باعث موٹروے پر مسافر بسیں حادثات کا شکار ہو چکی ہیں، جس کے بعد ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کی جانب سے سخت قوانین کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، لیکن ان پر مستقل عمل درآمد کی کمی دکھائی دیتی ہے۔
بروقت ردعمل اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت
یہ واقعہ جہاں موٹروے پولیس کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت اور فوری ردعمل کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، وہاں پبلک ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی مجرمانہ غفلت پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
ہائی ویز اور موٹرویز پر گاڑیاں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں، جہاں پہیوں کا جام ہونا یا بریک لاک ہونا گاڑی کو پلٹانے یا اس میں شدید آگ لگانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حادثے سے یہ سبق ملتا ہے کہ صرف مینوفیکچرنگ فٹنس کافی نہیں، بلکہ ہر سفر سے پہلے بسوں کا تکنیکی معائنہ لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں فائر ایکسٹنگوشرز اور ہنگامی اخراج کے راستوں (ایمرجنسی ایگزٹ) کا فعال ہونا لازم ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے انسانی المیے کا راستہ روکا جا سکے۔