ثاقب چدھڑ کی ضمانت میں ایک بار پھر توسیع، مومنہ اقبال کا ردعمل سامنے آگیا

ثاقب چدھڑ کی ضمانت میں ایک بار پھر توسیع، مومنہ اقبال کا ردعمل سامنے آگیا

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع کیے جانے کے بعد قانونی کارروائی پر سوالات اٹھا دیے۔

لاہور کی سیشن عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت میں 13 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے دونوں کو تحقیقات میں شامل ہونے کی ہدایت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ سے پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔

یہ بھی پڑھیں :مومنہ اقبال کو دھمکیوں کا مقدمہ، عدالت کا اہم حکم جاری

عدالتی کارروائی کے بعد مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر، بغیر کسی کا نام لیے، لکھا کہ پہلے انہیں لگتا تھا کہ اثر و رسوخ صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود ہے، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ ہونے کا پورا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کے قانونی نمائندوں کو کئی بار ہراساں کیا گیا، ان کا تعاقب کیا گیا اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا عام شہریوں کے مقدمات بھی اسی انداز میں چلائے جاتے ہیں، یا بار بار تاریخیں صرف بااثر شخصیات کو ہی دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :کیا عمران عباس نے شوبز چھوڑ دیا؟ اداکار نے حقیقت بتا دی

یہ معاملہ رواں برس مئی میں اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے اپنی درخواست میں ثاقب چدھڑ کا نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شادی کی پیشکش مسترد ہونے پر انہیں، ان کے منگیتر اور ان کی بہن کو دھمکیاں دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:گلوکاری کے بعد عاصم اظہر کا روحانی انداز، میلبرن میں اذان دے کر داد سمیٹ لی

واضح رہے کہ 4 جون کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ثاقب چدھڑ کے خلاف سائبر کرائم سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اگلے روز انہیں عبوری قبل از گرفتاری ضمانت مل گئی تھی، جس میں بعد ازاں متعدد بار توسیع کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس مقدمے میں پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے یا کسی بھی فریق کو دھمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

editor

Related Articles