مصر میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دو اہم تاریخی دریافتوں کا اعلان کیا ہے، جن میں مغربی صحرا کے الداخلہ اویسس میں بازنطینی دور کے ایک محفوظ رہائشی شہر اور اسکندریہ کے قریب قدیم مقبروں کا ایک مجموعہ شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافتیں قدیم مصر کی شہری زندگی، تعمیراتی منصوبہ بندی، مذہبی روایات اور سماجی سرگرمیوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کریں گی، جبکہ ان سے ملک کے سیاحتی شعبے کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق الداخلہ اویسس میں دریافت ہونے والا شہر چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے، جب مصر بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا۔ کھدائی کے دوران باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کی گئی سڑکیں، عوامی چوک اور متعدد اہم عمارتوں کے آثار سامنے آئے ہیں۔
دریافت شدہ عمارتوں میں چوتھی صدی کے وسط میں تعمیر ہونے والا ایک قدیم باسیلیکا چرچ، شہر کے دفاع کے لیے بنائے گئے دو واچ ٹاورز، مضبوط فصیلوں والے قلعہ نما ڈھانچے اور متعدد رہائشی مکانات شامل ہیں۔
ماہرین نے ایک ایسے گھر کے آثار بھی دریافت کیے ہیں، جسے ٹیسوس نامی چرچ کے ایک ڈیکن سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ باسیلیکا چرچ کی تعمیر سے قبل اس عمارت کو عبادت گاہ یا “ہاؤس چرچ” کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ الداخلہ اویسس اس وقت یونیسکو کی عارضی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے، اور ماہرین کے مطابق حالیہ دریافتیں مستقبل میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے کے امکانات مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔