اسٹیٹ بینک کا کم از کم منافع کے قواعد میں اہم تبدیلیوں کا اعلان

اسٹیٹ بینک کا کم از کم منافع کے قواعد میں اہم تبدیلیوں کا اعلان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں میں جمع رقوم (ڈپازٹس) پر کم از کم منافع کے قواعد میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ایک کروڑ روپے تک اوسط بیلنس رکھنے والے انفرادی صارفین کم از کم منافع کے حقدار ہوں گے۔

مرکزی بینک کے مطابق نئی ہدایات یکم اگست 2026 سے ملک بھر کے بینکوں پر لاگو ہوں گی، ان تبدیلیوں کا مقصد سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور ریٹیل و کارپوریٹ سرمایہ کاروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ بینک ڈپازٹس پر کم از کم منافع کی شرط اب صرف انفرادی اکاؤنٹس پر لاگو ہوگی ایسے صارفین جن کے اکاؤنٹس میں اوسط ماہانہ بیلنس ایک کروڑ روپے تک ہوگا، انہیں مقررہ کم از کم منافع فراہم کرنا لازم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں :اسٹیٹ بینک کا سوہنی دھرتی ترسیلاتِ زر اسکیم کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا فیصلہ

مرکزی بینک نے کارپوریٹ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کیلئے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے انہیں براہ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس مقصد کیلئے اسٹیٹ بینک نے نویسٹ پاک کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے عوام اور کمپنیاں حکومتی سیکیورٹیز، ٹی بلز اور انویسٹمنٹ بانڈز میں آسان اور محفوظ طریقے سے سرمایہ کاری کر سکیں گی۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نئی ترامیم کے علاوہ بینکنگ شعبے سے متعلق دیگر تمام موجودہ قوانین اور ہدایات بدستور نافذ العمل رہیں گی۔

editor

Related Articles