پیٹرولیم لیوی سے متعلق بڑی خبر سامنے آگئی

پیٹرولیم لیوی سے متعلق بڑی خبر سامنے آگئی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں پیٹرولیم لیوی میں اضافے اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) فنڈز کے استعمال سے متعلق اہم معاملات زیر بحث آئے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی مصطفیٰ محمود نے کی جبکہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزارتِ پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام اور کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ارکانِ کمیٹی نے پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیوی بڑھ کر 118 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔

اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مصطفیٰ محمود نے کہا کہ دیگر ایجنڈا آئٹمز پر بحث مکمل کرنے کے بعد پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا تاکہ اس حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے 51 ویں انٹرنیشنل نتھیاگلی سمر کالج کا افتتاح کر دیا

اجلاس میں سندھ اور بلوچستان میں سی ایس آر فنڈز خرچ نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

صوبائی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2020-21 سے سی ایس آر فنڈز کی فراہمی شروع ہوئی، تاہم واضح پالیسی اور گائیڈ لائنز نہ ہونے کے باعث ان فنڈز کو استعمال نہیں کیا جا سکا۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں سی ایس آر کی مد میں تقریباً تین ارب روپے تاحال استعمال نہیں ہو سکے اور مختلف منصوبے فنڈز کے اجرا اور طریقہ کار واضح نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔

اجلاس کے دوران رکنِ کمیٹی طلال بدر نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سی ایس آر فنڈز کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ان فنڈز سے کنسلٹنٹس کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کنسلٹنٹس کو سی ایس آر فنڈز سے رقم کس قانون اور کس مقصد کے تحت دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے جو مذموم مقاصد اور اسکا اصل چہرہ ہے وہ اب عیاں ہوچکا ہے ، سیکورٹی ذرائع

کمیٹی نے وزارتِ پیٹرولیم اور متعلقہ حکام سے پیٹرولیم لیوی، سی ایس آر فنڈز کی تقسیم اور ان کے استعمال کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے مکمل بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔

Related Articles